Urdu book · سفرنامہ اسپین و فلسطین

سفرنامہ اسپین

Urdu book, p. 14

By Maulana Wahiduddin Khan

1861 میں پیرس میں پیدا ہوا اور 1929ء میں پیرس ہی میں اس کی وفات ہوئی۔ اس نے 1927ء میں الجزائر میں اسلام قبول کرلیا۔ اس کے قبولِ اسلام کی تقریب میں عرب علماء کی بڑی تعداد شریک تھی۔ اس نے اپنا اسلامی نام ناصر الدین رکھا۔ اس کی اسلام پر کئی اعلیٰ تصنیفات ہیں۔ ان میں سے ایک فرانسیسی زبان میں لکھی ہوئی سیرت (Mohamet) ہے۔ اس کی مختلف اسلامی کتابوں میں سے ایک کتاب عربی میں أشعة خاصة بنور الإسلام کے نام سے شائع ہوئی ہے۔ وفات کے بعد اس کی وصیت کے مطابق، اس کی تدفین الجزائر کے ایک گاؤں بوسعادة میں ہوئی۔ ڈاکٹر محمود المقداد کی کتاب تاريخ الدراسات العربية في فرنسا 1992میں کویت سے چھپی ہے۔ 300 صفحات کی یہ کتاب فرانس میں عربی مطالعات کے موضوع پر ایک اچھی کتاب ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ 1830ء میں جب فرانس نے الجزائر پر قبضہ کیا تو یہ فرانسیسیوں کے لیے عربی زبان اور عربی علوم کے مطالعہ کا نہایت طاقتور محرک بن گیا۔ اس کے بعد فرانس میں بڑے بڑے مستعرب (مستشرق) پیدا ہوئے۔ انہی میں سے ایک اہم شخصیت ہنری ماسیہ(H.Masse) کی ہے جس نے خاص اس موضوع پر ایک تفصیلی مقالہ شائع کیا ہے (صفحہ 229) عرب دنیا میں سیاسی نفوذ حاصل کرنے کے بعد فرانس نے عربوں کو فرانسیسی بنانے (فرنسة الشعب العربی) کی مہم چلائی تھی، مگر سیاسی اور فوجی بالا دستی کے باوجود فرانس نا کام رہا۔ "فرنسة الشعب العربی" کی مہم عملاً اسلمة الشعب الفرنسي (فرانسیسیوں کے اسلام لانے) کے ہم معنی بن گئی۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ نظریہ کی طاقت ہر دوسری طاقت سے زیادہ عظیم ہے۔ بنگلہ دیش کی مصنفہ تسلیمہ نسرین، جو اپنے وطن سے بھاگ کر سویڈن میں مقیم ہے، آج کل فرانس کے دس روزہ دورے پر ہے۔ اس کو فرانس بلا کر انسانی حقوق کی مجاہدہ کا انعام دیا گیا ہے۔ یکم دسمبر 1994 کو موصوفہ سے فرانس کے صدر متراں (Francois Mitterrand) نے ریلیزی پینس میں ملاقات کی۔ تسلیمہ نسرین نے صدر فرانس کو بتایا کہ کس طرح وہ اپنی روشن خیالی کی بنا پر انتہا پسند مسلمانوں کے عتاب کا شکار ہو رہی ہے۔ 20 منٹ کی یہ ملاقات خود پر یزیڈنٹ متراں کی درخواست پر ہوئی۔ کیونکہ صدر موصوف یہ چاہتے تھے کہ وہ فرانس کی طرف سے موصوفہ کی قدردانی کا اظہار کریں۔ نام نہاد مسلم دانشور اس واقعہ پر صدر فرانس کو برا کہیں گے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اس کے ذمہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page