سفرنامہ اسپین
Urdu book, p. 13
By Maulana Wahiduddin Khan
مرضی کے علی الرغم اس نے طلاق لے لی۔ اس واقعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہاں کے مسلمان کس قسم کے نازک مسائل سے دوچار ہیں۔ فرانس کے مسلمانوں میں محدود تعداد نوممسلموں کی ہے۔ تاہم یہ نوممسلم مسلمانوں کی کسی تبلیغ سے اسلام کی طرف راغب نہیں ہوئے ہیں بلکہ زیادہ تر اپنے ذاتی مطالعہ سے اسلام کی طرف آئے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کو دور جدید کے حنفاء‘‘ کہا جا سکتا ہے۔ انسان کے اندر فطری طور پر حق کی طلب موجود ہے۔ تاہم بعض افراد کے اندر یہ طلب زیادہ طاقتور صورت میں ہوتی ہے۔ یہ لوگ خود اپنے اندرونی تقاضے کے تحت اسلام کا مطالعہ کرتے ہیں اور پھر اپنی روحانی طلب کا جواب پا کر اس کو قبول کر لیتے ہیں۔ ایک نومسلم خاتون (مسز زرینہ) نے ایک بڑا عجیب واقعہ بتایا۔ حال میں ایک فرانسیسی عیسائی نے اسلام قبول کیا ہے۔ قبول اسلام سے پہلے وہ صرف اسلامی لٹریچر سے آشنا ہوا تھا۔ قبول اسلام کے بعد اس کا ربط مسلمانوں سے ہوا۔ اس نے بعد کو اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خدا کا شکر ہے کہ میں اسلام سے اس وقت واقف ہوا جب کہ میری ملاقات ابھی کسی ایک مسلمان سے بھی نہیں ہوئی تھی: Thank God I was introduced to Islam before I was introduced to a single Muslim. فرانس میں بڑی تعداد میں مستشرق پیدا ہوئے۔ انہوں نے عربی زبان سیکھی اور اسلامی علوم کا گہرا مطالعہ کیا۔ عام طور پر ہمارے یہاں استشرق کو اسلام کے خلاف ایک مغربی سازش سمجھا جاتا ہے۔ مگر یہ ایک بے بنیاد بات ہے۔ اصل یہ ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلم دانشور اپنے بگڑے ہوئے مزاج کی بنا پر ایسا کرتے ہیں کہ کسی کے یہاں اگر کوئی چیز خلاف مزاج یا خلاف حق دیکھتے ہیں تو بس اسی کو جنرلائز کرنے لگتے ہیں۔ وہ آدمی کی تمام ثبت باتوں کو بھلا کر چند اختلافی باتوں ہی کو اس کی گل بات قرار دے دیتے ہیں۔ مستشرقین میں بہت سے ایسے افراد ہیں جنہوں نے اسلام کے گہرے مطالعہ کے بعد اسلام قبول کر لیا۔ انہی میں سے ایک فرانس کا مستشرق اتین دینیہ (Etienne Dinet) ہے۔ وہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader