Urdu book · سفرنامہ اسپین و فلسطین

سفرنامہ فلسطین

Urdu book, p. 158

By Maulana Wahiduddin Khan

مسلمانوں کو اسلام کی روشنی میں دیکھیں، نہ کہ مسلمانوں کی روشنی میں اسلام کو: You have to judge Muslims by Islam, and not vice versa. تیسرا انٹرویو بی بی سی (ٹی وی) کی خاتون نمائندہ جانا بیرس (Jana Beris) کا تھا۔ مگر وقت کی کمی کے باعث وہ بہت مختصر رہا۔ مسلمانوں میں روایتی طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہودی بحیثیت قوم ہمیشہ کے لیے محتاج اور ذلیل کر دیے گئے ہیں۔ قتادہ نے کہا کہ تم کسی بھی ملک میں کسی یہودی سے ملو تو تم پاؤ گے کہ وہ لوگوں میں سب سے زیادہ ذلیل ہے (لا تلقي يهودياً في بلد إلا وقد وجدته من أذل الناس) تفسیر النسفی، جلد 1، صفحہ 292۔ موجودہ زمانہ میں معاملہ اس کے برعکس دکھائی دیتا ہے۔ موجودہ زمانہ میں یہودی لوگوں کے درمیان کم از کم ظاہری طور پر باعزت جگہ پائے ہوئے ہیں اور مسلمان عملاً ہر جگہ بے قیمت ہو رہے ہیں۔ حتیٰ کہ اقبال نے کہا: یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود ممکن ہے کہ وَضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ وَالْمَسْكَنَةُ (2:61) سے مراد یہودیوں کی وہ نسل ہو جو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی معاصر تھی اور مسلمان اس شعر کے مصداق ہوں: وہ زمانہ میں معزز تھے مسلماں ہو کر اور تم خوار ہوئے تارکِ قرآں ہو کر اسحاق نافون (2015-1921 ,Yitzhak Rachamim Navon) پہلا اسرائیلی صدر ہے جس نے ستمبر 1980ء میں مصر کا دورہ کیا۔ اس کو قاہرہ کے قصر عابدین میں ٹھہرایا گیا تھا۔ اسرائیلی صدر نے قاہرہ کے استقبالیہ جلسہ میں فصیح عربی میں تقریر کی۔ اس میں اس نے مصریوں کو دعوت دی کہ وہ اسرائیل آئیں اور وہاں آزادانہ طور پر لوگوں سے ملیں—اگر آپ ہم کو دوست سمجھیں تو دوست دوست سے ملتا ہے۔ اور اگر آپ ہم کو دشمن سمجھیں تو عربی مثل ہے کہ اپنے دشمن کو پہچانو: اذا كنتم تعتبروننا اصدقاء فالصديق يزور صديقه و اذا كنتم تعتبروننا اعداءنا لمثل العربى يقول: اعرف عدوك۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page