سفرنامہ فلسطین
Urdu book, p. 157
By Maulana Wahiduddin Khan
آزادی اسرائیل کی کسی عنایت کی بنا پر نہیں ہے بلکہ زمانی تبدیلی کی بنا پر ہے۔ موجودہ زمانہ میں مذہبی آزادی کا جو انقلاب آیا ہے اور جس کی ضمانت خود اقوام متحدہ نے دے رکھی ہے، اس نے ناقابل تنسیخ انداز میں اس بات کو ممکن بنا دیا ہے کہ ہر شخص ہر جگہ جاسکے۔ شرط صرف ایک ہے اور وہ یہ کہ وہ جہاں بھی جائے ہر جگہ وہ امن کی روش پر قائم رہے۔ 30 اگست کی شام کو سی این این (CNN) کے نمائندہ جیروڈ کیسیل (Jerrold Kessel) اور ان کی ٹیم نے ویڈیو انٹرویو ریکارڈ کیا۔ ابتدا میں انہوں نے صرف پانچ منٹ کے انٹرویو کے لیے کہا تھا۔ مگر جب انٹرویو شروع ہوا تو وہ آدھا گھنٹہ تک مسلسل بات کرتے رہے۔ انہوں نے آخر میں کہا کہ آپ کا انٹرویو بہت دلچسپ رہا۔ تمام سوالات اسلام کے بارے میں تھے۔ ان کے سوالات کسی قدر جارحانہ ہوتے تھے۔ مگر میں خدا کے فضل سے نہایت معتدل انداز میں ان کا جواب دیتا رہا۔ ایک سوال یہ تھا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اسلام اپنا رول ختم کر چکا ہے۔ میں نے کہا کہ میرا تو خیال یہ ہے کہ اسلام از سر نو اپنا رول ادا کرنے کے لیے ابھر رہا ہے۔ کچھ سال پہلے تک لوگ کمیونسٹ آئیڈیالوجی پر اعتماد کیے ہوئے تھے۔ مگر سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد اب ساری دنیا میں ایک قسم کا نظریاتی خلا (ideological vacuum) پیدا ہو گیا ہے۔ اس خلا کو صرف اسلام ہی پر کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بظاہر تو اسلام اس خلا کو پر کرتا ہوا دکھائی نہیں دیتا۔ میں نے کہا کہ مجھے تو اس کے برعکس یہ نظر آ رہا ہے کہ آج اسلام ساری دنیا کا مرکز توجہ بن گیا ہے۔ آپ کے ملک میں ہیوی ویٹ چیمپیئن (ٹائسن) نے اسلام قبول کر لیا ہے۔ برطانیہ میں ایک بہت اونچے خاندان کی لڑکی (جمائما) اسلام کے دائرہ میں داخل ہو گئی ہے۔ فرانس میں ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ شخص (گارودی) نے قبولِ اسلام کا اعلان کر دیا ہے، وغیرہ۔ کناڈا کی ٹی وی کمپنی (Villagers Communication) کے نمائندہ اسٹوڈیو کیی (Steve (Dawn Deme اور ان کی پارٹی نے ویڈیو انٹرویو ریکارڈ کیا۔ ان کے سوالات زیادہ تر مسلمانوں کی موجودہ حالت کے بارے میں تھے۔ ایک سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ آپ کو چاہیے کہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader