سفرنامہ فلسطین
Urdu book, p. 160
By Maulana Wahiduddin Khan
کے ساتھ اسرائیل کا پانچ روزہ (12_16 جون 1994 ء) دورہ کیا۔ اس سفر کے بعد مسٹر پالکھی والے نے ایک آرٹیکل لکھا جو نیوز فرام اسرائیل (News from Israel) کے شمارہ جولائی - اگست 1994 ء میں شائع ہوا ہے۔ یہ پرچہ بمبئی میں واقع اسرائیلی قونصل (Consulate of Israel) کی طرف سے شائع کیا جاتا ہے۔ مسٹر پالکھی والا کے مذکورہ آرٹیکل کے کچھ اقتباسات علیحدہ صفحہ پر یہاں نقل کیے جا رہے ہیں۔ اس آرٹیکل کو پڑھنے کے بعد میں نے ایک صاحب سے کہا کہ جو مسلمان اس طرح کی باتوں پر غصہ ہوتے ہیں انہیں چاہیے کہ وہ مسلم ملکوں کو آمادہ کریں کہ وہ بھی اپنے یہاں ایسے واقعات رونما کریں جس کو لوگ آ کر دیکھیں اور پھر واپس جا کر اس کی تعریف میں مضامین شائع کریں۔ جیسا کہ اسلام کے ابتدائی زمانہ میں تھا۔ اس وقت دنیا بھر کے لوگ بغداد اور قرطبہ اور غرناطہ کو دیکھنے کے لیے آتے تھے اور پھر واپس جا کر اپنے ہم وطنوں سے اس کا شاندار تذکرہ کرتے تھے۔ حدیث میں آیا ہے کہ خَالِفُوا الْيَهُودَ (سنن ابوداؤد، حدیث نمبر 652)۔ یعنی ، یہود کے خلاف عمل کرو۔ اس کا مطلب اس سفر میں میری سمجھ میں آیا۔ یہاں "یہود" کا لفظ علامتی معنی میں ہے۔ یہ حدیث یہود کی گروہی مخالفت کے معنی میں نہیں ہے۔ وہ دراصل ظاہر پرستی والے دین کے خلاف ہے جو دورِ زوال میں یہود کے اندر بہت زیادہ آگئی تھی۔ حدیث میں ہے کہ یہود جوتا پہن کر نماز نہیں پڑھتے، اس لیے تم اس کے خلاف کرو۔ چنانچہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جوتا پہن کر نماز پڑھی (سنن ابوداؤد، حدیث نمبر 53-652)۔ اسی طرح آپ نے افطار میں تعجیل کرنے کی ہدایت فرمائی اور اس کی وجہ یہ بتائی کہ یہودی افطار میں تاخیر کرتے ہیں (فَإِنَّ الْيَهُودَ يُؤَخِّرُونَ) سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 1698۔ اس کی حکمت یہ ہے کہ یہود کے یہاں دین کی داخلی روح ختم ہو گئی تھی، البتہ وہ ظواہر کا خوب اہتمام کرتے تھے۔ مثلاً ان کا کہنا تھا کہ جوتا اتار کر عبادت کرنا افضل ہے اور جوتا پہن کر عبادت کرنا غیر افضل۔ اسی طرح یہودی اس کو متقیانہ احتیاط بتاتے تھے کہ روزہ افطار کرنے میں دیر کی جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود کی مخالفت کی بات دراصل اسی ظاہر پرستی کو توڑنے کے لیے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader