Urdu book · سفرنامہ اسپین و فلسطین

سفرنامہ فلسطین

Urdu book, p. 161

By Maulana Wahiduddin Khan

فرمائی۔ آپ کے ارشاد کا مطلب یہ تھا کہ تم یہود کی طرح نہ ہو جاؤ جو ظواہر کے اہتمام کو دین سمجھتے ہیں۔ اس کے بجائے تم داخلی روح کا زیادہ سے زیادہ اہتمام کرو، کیونکہ وہی اصل مطلوب ہے۔ ابوعبیدہ بن الجراح کی قیادت میں شام فتح ہوا تھا۔ اس کے بعد ابوعبیدہ نے عمروبن العاص کی سرداری میں ایک لشکر فلسطین بھیجا۔ یہاں اس وقت رومی (بازطینی) سلطنت تھی۔ رومی لشکر کا سردار ارطبون تھا۔ مقابلہ میں رومی لشکر کو شکست ہوئی۔ اس کے بعد وہ بیت المقدس (یروشلم) میں قلعہ بند ہوگیا۔ عمروبن العاص نے اس کا محاصرہ کر لیا۔ آخر کار وہ لوگ مجبور ہو گئے اور صلح کی پیش کش کی۔ البتہ یہ شرط رکھی کہ خلیفہ خود مدینہ سے یروشلم آئے۔ حضرت عمر فاروق مدینہ سے روانہ ہو کر جابیہ پہنچے۔ پھر وہاں سے یروشلم گئے۔ جزیہ کی ادائیگی پر مصالحت ہوئی۔ اس معاہدہ کی تفصیل تاریخ کی کتابوں میں آئی ہے۔ اس کی دفعات میں سے ایک دفعہ یہ بھی تھی کہ ان کے عبادت خانے ڈھائے نہیں جائیں گے اور نہ ان میں کوئی کمی کی جائے گی اور نہ ان کے دین کے معاملہ میں ان پر کوئی جبر کیا جائے گا (لا تسکن كنائسهم ولا تهدم، ولا ينتقص منها... ولا يكرهون علی دینهم) تاریخ الطبری، جلد 3 ، صفحه 609۔ حضرت عمر فاروق یروشلم کے کنیستہ القیامہ میں داخل ہوئے۔ عصر کی نماز کا وقت آ گیا تو آپ نے نماز پڑھنا چاہا۔ پادری نے کہا کہ یہیں پڑھ لیجیے۔ مگر حضرت عمر نے اندر نماز نہیں پڑھی۔ بلکہ باہر نکل کر چبوترہ پر اکیلے نماز پڑھی۔ یہ دیکھ کر پادری نے کہا کہ اگر آپ چرچ کے اندر نماز پڑھ لیتے تو مسلمان اس کو نظیر بنا لیتے اور کہتے کہ یہاں خلیفہ عمر نے نماز پڑھی ہے۔ جنرل وایز مان اسرائیل کی کیبنٹ کا ایک منسٹر تھا۔ وہ مصر سے دوستی کی باتیں کرتا تھا۔ ایک صاحب نے اس کا قول عربی میں اس طرح نقل کیا کہ اعتماد باہمی مفاہمت کی کنجی ہے اور وہ تمام مشکلات کے حل کا راستہ ہے (الثقة هي مفتاح التفاهم والوصول الى حلول للمشاكل)۔ یہودیوں کا ایک گروہ اس کی'' مصر دوستی‘‘ کی بنا پر اس سے ناراض تھا۔ ان لوگوں نے وایز مان کا لقب مسٹر ایجپٹ (Mr. Egypt) رکھ دیا تھا۔ اب اس کا تقابل مسلمان، خاص طور پر برصغیر کے مسلمانوں سے کیجیے۔ سرسید نے انگریزوں سے مفاہمت کی بات کی تو یہاں کے مسلمانوں نے ان کو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page