سفرنامہ فلسطین
Urdu book, p. 167
By Maulana Wahiduddin Khan
نے یروشلم آ کر یہاں نماز پڑھی۔ اس وقت یہاں غیر مسلموں کی سیاسی حکومت قائم تھی۔ آپ بھی ہماری سیاسی حکمرانی کے تحت یہاں آ کر نماز پڑھیے۔ ہم آپ کو نہیں روکتے۔ میں نے جواب دیا کہ اس مسئلہ پر مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان سنجیدہ انداز میں ڈائیلاگ ہونا چاہیے۔ پاکستان میں اگر آپ جائیں تو آپ دیکھیں گے کہ وہاں ہر چیز کو اسلامائز کر لیا گیا ہے۔ حتی کہ ایک فلم کمپنی اپنی فلم کو ریلیز کرنے والی ہوگی تو اس کا اشتہار ان الفاظ میں شائع کیا جائے گا— ان شاء اللہ، اگلے جمعہ کو ہماری نئی فلم ریلیز کی جائے گی۔ یہی معاملہ اسرائیل کا ہے۔ وہاں ہر چیز کو یہودی رنگ میں رنگ دیا گیا ہے۔ مثلاً یروشلم کی ایک جدید کالونی کا نام قریہ داؤد (David’s Village) ہے۔ ایک اور کالونی کا اشتہار میں نے دیکھا۔ اس کے اوپر جلی حروف میں لکھا ہوا تھا کہ ارض موعود میں آپ کا آپارٹمنٹ: Your own apartment in the promised land ایک اخبار میں ایک اسرائیلی کمپنی کا اشتہار دیکھا۔ جس کا کام تل ابیب میں نجی جائیدادوں کا انتظام (Property management) کرنا ہے۔ اشتہار میں گھر کی دیکھ بھال اور اس کے انتظام کے سلسلہ میں جن باتوں کا ذکر تھا، ان میں سے ایک یہ بھی تھا کہ ـــــ ہم حفاظت کا انتظام کرتے ہیں: We arrange security اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسرائیل میں کس طرح عام لوگ غیر محفوظ حالت میں زندگی گزارتے ہیں۔ یہودی جانتے ہیں کہ وہ صرف اسرائیل (فلسطین) کے اوپر زندہ نہیں رہ سکتے۔ انہیں ساری دنیا سے اپنی زندگی کی خوراک حاصل کرنا ہے۔ ایک یہودی تاجر نے کہا— عالمی تجارت ہمارا مستقبل ہے: Global business is our future. قدیم زمانہ میں کوئی ملک زیادہ تر اپنے مقامی ذرائع پر انحصار کرتا تھا۔ موجودہ زمانہ میں جدید کمیونی کیشن کے ظہور میں آنے کے بعد صورت حال بالکل بدل گئی ہے۔ آج یہ ممکن ہو گیا ہے کہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader