Urdu book · سفرنامہ اسپین و فلسطین

سفرنامہ فلسطین

Urdu book, p. 166

By Maulana Wahiduddin Khan

دوسری اہم تر بات یہ ہے کہ قدس میں جو اصل اسلامی سبق ہے، وہ قومی یا سیاسی یا جغرافی نوعیت کا نہیں ہے۔ وہ ان جھگڑوں سے مکمل طور پر الگ ایک اور سبق ہے۔ اور وہ مدعو کی تالیف قلب ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کے بعد بیت المقدس کو قبلہ کیوں بنایا۔ اس کی وجہ مسلمہ طور پر یہود کی تالیف قلب تھی جو رسول اللہ کے لیے مدعو کی حیثیت رکھتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب ہجرت کرکے مدینہ پہنچے تو آپ کے لیے دو صورتیں تھیں۔ ایک یہ کہ سابق کی طرح کعبہ کو قبلہ بنائیں ۔ دوسری صورت یہ تھی کہ مدینہ کے یہود کی پیروی کریں جو بیت المقدس کی طرف رخ کرکے عبادت کرتے تھے۔ آپ نے قدس کا انتخاب فرمایا اس طمع میں کہ یہود آپ کی طرف مائل ہوں گے اور ایمان لائیں گے (فَاخْتَارَ الْقُدْسَ طَمَعًا فِي إِيمَانِ الْيَهُودِ وَاسْتِمَالَتِهِمْ)۔ الجامع لاحکام القرآن للقرطبی، جلد 2، صفحہ 150۔ گویا قدس کا اصل سبق یہ ہے کہ مدعو کی رعایت یہاں تک کرو کہ ان کے قبلہ کو اپنا قبلہ بنالو۔ آج اگرچہ ہمیں قبلہ بدلنے کی ضرورت نہیں ہے۔ تاہم بہت سے دوسرے معاملات ہیں جن میں مدعو قوموں کی رعایت کرکے انہیں اسلام کے قریب لایا جا سکتا ہے۔ مگر موجودہ زمانہ کے مسلمان اس سنت رسول سے مکمل طور پر بے خبر ہیں، خواہ وہ فلسطین کے مسلمان ہوں یا دوسرے ملکوں کے مسلمان۔ موجودہ زمانہ کے مسلمان غیر مسلم قوموں سے ہر جگہ رقابت قائم کیے ہوئے ہیں۔ یہ قدس اسپرٹ کے سراسر خلاف ہے۔ ایک یہودی عالم جو اچھی عربی جانتا تھا۔ اس نے کہا کہ قدس کو ہم اپنا حق اس لیے کہتے ہیں کہ ہماری کتابوں ہی میں نہیں بلکہ خود آپ کی مقدس کتاب قرآن میں بھی اس کو ہمارا حق بتایا گیا ہے۔ جب کہ قرآن میں کہیں نہیں لکھا ہے کہ قدس مسلمانوں کو دے دیا گیا۔ اس نے کہا کہ آپ لوگ قدس کو قبلہ اول کہتے ہیں مگر وہ قبلہ اول کہاں ہے وہ تو قبلہٴ عارضی تھا۔ آپ کے پیغمبر پہلے کعبہ کی طرف رخ کرکے نماز پڑھتے تھے۔ پھر وقتی طور پر کچھ دنوں بیت المقدس کو قبلہ بنایا اور اس کے بعد پھر کعبہ کو قبلہ بنا لیا۔ آپ کے عقیدہ کے مطابق، آپ کے پیغمبر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page