Urdu book · سفرنامہ اسپین و فلسطین

سفرنامہ فلسطین

Urdu book, p. 169

By Maulana Wahiduddin Khan

اس میں تینوں سامی مذہب کے علامتی تقدس بنائے گئے ہیں۔ ان کو بتاتے ہوئے ایک یہودی نے کہا: It represents elements that Judaism, ایک صاحب سے مہدی سوڈانی کا تذکرہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ مہدی سوڈانی نے اگرچہ عوام کی بھیڑ اپنے گرد اکٹھا کر لی تھی ، مگر وہ کوئی معتدل آدمی نہیں تھے۔ انہوں نے بتایا کہ مصر کے حکمراں محمد علی پاشا نے 1835ء میں سوڈان پر حملہ کیا تھا۔ مہدی سوڈانی کو اس کی خبر ملی اور یہ بھی معلوم ہوا کہ وہ دریائے نیل کے راستے سے سوڈان پہنچنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے اپنے مریدوں کی مجالس میں کہا کہ وہ دریائی راستے سے سوڈان پہنچنے میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔ کیونکہ خدا کی قسم ، میں دریا کا سارا پانی پی کر اس کو خشک کر دوں گا (تااللہ اشرب البحر...) فلسطین (اسرائیل) کا ایک شہر حیفا ہے۔ یہاں پانچ مذہب کے لوگ رہتے ہیں اور ہر ایک کی عبادت گاہیں اور مذہبی ادارے وہاں موجود ہیں ۔ یہودی، مسلمان ، عیسائی ، دروزی اور بہائی۔ عرب مسلمانوں کی تعداد 10 فیصد سے سے کچھ اوپر ہے۔ ایک یہودی نے اس کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آپ دیکھیے ، یہ سب لوگ کس طرح رواداری کے ساتھ یہاں رہ رہے ہیں : ...they share a unique spirit of tolerance. بہائی فرقہ دنیا میں پانچ ملین ہے۔ حیفا میں ماؤنٹ کارمل کے اوپر اس کا مرکز ہے جس کا سنہرا گنبد دور سے دکھائی دیتا ہے۔ بہائی مذہب ایران میں 1844ء میں وضع کیا گیا۔ اس کے بانی کا نام باب اللہ تھا۔ حکومت ایران سے ان کا اختلاف ہوا۔ حکومت نے ان کے 20 ہزار آدمیوں کو قتل کرا دیا۔ اس کے بعد اس مذہب کو ماننے والے دنیا کے مختلف ملکوں میں پھیل گئے۔ اسرائیل کے قیام کے بعد 1948ء میں انہوں نے یہاں اپنا مرکزی دفتر قائم کیا۔ 1953ء میں موجودہ عمارت بن کر مکمل ہوئی۔ ایک بہائی نے کہا: Our relation with the Israelis are proper and friendly. اسرائیل میں بہائیوں کی تعداد ایک سو سے کچھ زیادہ ہے۔ تاہم ان کے افراد بڑی تعداد میں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page