سفرنامہ اسپین
Urdu book, p. 19
By Maulana Wahiduddin Khan
ہماری گاڑی جب میڈرڈ کی سڑکوں سے گزر رہی تھی تو اس کو دیکھ کر مجھے یہ احساس ہوا کہ میڈرڈ مغربی یورپ کے بڑے شہروں کے مقابلہ میں دوسرے درجہ کا شہر ہے۔ ابتدائی مرحلہ میں اسپین نے مغربی یورپ کو سائنسی ترقی کا راستہ دکھایا تھا۔ مگر آخری مرحلہ میں اسپین پیچھے اور مغربی یورپ آگے ہو گیا۔ اس کی وجہ یہاں کے مذہبی طبقہ کا غلط کردار ہے۔ انہوں نے اسپین کے مسلمانوں کے ترقیاتی پہلو کو نہیں دیکھا۔ انہوں نے صرف یہ دیکھا کہ وہ غیر مذہب سے تعلق رکھنے والے لوگ ہیں۔ اس پہلو کو لے کر انہوں نے مسلمانوں کے خلاف خوب نفرت پھیلائی اور اسی کے ساتھ مسلمانوں کے علم کے خلاف بھی۔ اس منفی روش نے اسپین میں علمی ترقی کے عمل کو کئی سو سال پیچھے کر دیا۔ انگریز مؤرخ لین پول (Lane - Pool) نے موجودہ صدی کے آغاز میں ایک کتاب لکھی تھی جس کا نام اسپین کے مسلمان (Moors in Spain) تھا۔ اس کتاب میں مصنف نے اسپینی مسلمانوں کے علمی اور تمدنی کارناموں کا کھلے دل سے اعتراف کیا ہے۔ پھر اس نے لکھا ہے کہ اسپین کی مسلم حکومت کا خاتمہ اور وہاں سے جبراً مسلمانوں کو نکالنے کا یہ نتیجہ ہوا کہ اسپین دوبارہ اسی غیر ترقی یافتہ حالت کی طرف لوٹ گیا جہاں وہ پہلے تھا۔ اس نے لکھا ہے کہ مسلمان اسپین سے نکال دیے گئے۔ کچھ دیر کے لیے مسیحی اسپین چمکا تھا۔ جس طرح چاند غیر کی روشنی سے چمک اٹھتا ہے۔ پھر گرہن آ گیا اور اسی تاریکی میں اسپین اب تک پڑا ہوا ہے : The Moors were banished, for a while Christian Spain shone, Like the moon, with a borrowed light, then came the eclipse, and in that darkness Spain has grovelled ever since. (p.280) مسلم اسپین کا تعارف سب سے پہلے مجھے مسدس حالی کے ذریعہ ہوا۔ اس میں اسپین کے مسلم عہد کا ذکر بڑے جذباتی انداز میں کیا گیا ہے۔ مگر وہ منفی نوعیت کا تھا۔ مثلاً مسدس کے ایک بند کا دو مصرعہ اس طرح تھا : کوئی قرطبہ کے کھنڈر جا کے دیکھے وہ اجڑا ہوا کر و فر جا کے دیکھے اس کے بعد میں نے عربی یا اردو میں جتنے تذکرے پڑھے وہ تقریباً سب کے سب مرثیہ خوانی کے انداز میں تھے۔ مثلاً اقبال نے مسلم نو جوان کو خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ”وہ کیا گردشوں تھا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader