سفرنامہ اسپین
Urdu book, p. 20
By Maulana Wahiduddin Khan
تو جس کا ہے اک ٹوٹا ہوا تارا، اقبال احمد سہیل کی ایک نظم میں میں نے اس قسم کے اشعار پڑھے: ہمیں چھائے ہوئے تھے شرق سے تاغرب دنیا میں موافق جن دنوں تھی گردش دور زماں ہم سے مسلم دانشور اور مسلم ادیب اس قسم کی مرثیہ خوانی میں کیوں مبتلا ہیں۔ اس کی وجہ بہت بعد کو مجھے اس وقت معلوم ہوئی جب کہ اسلام کے وسیع مطالعہ کے بعد میں نے دوبارہ اسلام کو دریافت کیا۔ اب معلوم ہوا کہ ان لوگوں کی کمزوری یہ ہے کہ وہ اسلام کی عظمت کو الحمراء اور لال قلعہ کی سطح پر دیکھنا چاہتے ہیں۔ سیاسی عظمت کے سوا کسی اور عظمت کی انہیں خبر نہیں۔ اگر وہ صاحب بصیرت ہوتے تو وہ جانتے کہ اسلام کی نظریاتی عظمت تمام عظمتوں سے زیادہ بڑی ہے۔ مزید یہ کہ یہ نظریاتی عظمت اس وقت بھی پوری طرح باقی رہتی ہے جب کہ درود دیوار کی عظمتیں کھنڈر ہو کر گزری ہوئی تاریخ کا حصہ بن چکی ہوں۔ 28 نومبر کی صبح کو اٹھا تو یہ سوچ کر عجیب احساس ہوا کہ کل میں ہندوستان میں سو کر اٹھا تھا۔ آج میں سو کر اٹھا ہوں تو میں ہزاروں میل دور اسپین میں ہوں۔ وضو کر کے فجر کی نماز ادا کی۔ نماز میں جب میں قرآن کے ایک حصہ کی تلاوت کر رہا تھا تو غیر معمولی طور پر میری آواز اونچی ہو گئی۔ یہ احساس کہ آپ ایک نئی جگہ اللہ کا نام بلند کر رہے ہیں، آپ کے جذبات میں ایک ہیجان پیدا کر دیتا ہے۔ آپ زیادہ بڑھی ہوئی کیفیت کے ساتھ ذکر اور عبادت کا فعل انجام دینے لگتے ہیں۔ اسپین کے وقت میں اور انڈیا کے وقت میں ساڑھے چار گھنٹہ کا فرق ہے۔ اس وقت جب کہ میں اپنے ہوٹل کے کمرہ میں بیٹھ کر یہ سطریں لکھ رہا ہوں۔ یہاں رات کے ساڑھے گیارہ بجے ہیں۔ جب کہ اس وقت انڈیا کی گھڑیوں کی سوئی صبح چار بجے کا وقت بتا رہی ہے۔ وقت کے اسی فرق کی وجہ سے ایسا ہوا کہ میں 27 نومبر کی صبح کو دہلی سے روانہ ہوا اور اسی دن شام کو میڈ رڈ پہنچ گیا۔ اگر مشارق و مغارب میں فرق نہ ہوتا اور دونوں ملکوں کی گھڑی ایک ہی ہوتی تو 27 نومبر کوروانہ ہونے کے بعد جب میں یہاں پہنچتا اس وقت کیلنڈر میں 28 نومبر کی تاریخ شروع ہو چکی ہوتی۔ 27 نومبر کی شام کو جب میں کمپیوٹر کارڈ کے ذریعہ تالا کھول کر اپنے کمرہ میں داخل ہوا تو پہلی نظر میں کمرہ بہت شاندار نظر آیا۔ مجھے بتایا گیا تھا کہ یہ میڈ رڈ کا ایک ممتاز ہوٹل ہے لیکن اگلے ہی دن میری نظر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader