سفرنامہ فلسطین
Urdu book, p. 202
By Maulana Wahiduddin Khan
استحکام مطلوبہ معیار سے کم ہے تو اسی تناسب سے جہاد کے حکم میں تخفیف ہو جائے گی۔ ابتداے اہلِ اسلام اپنے ایمان اور اللہ ورسول کے ساتھ محبت و وفاداری میں بہت بڑھے ہوئے تھے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے سے دس گنی طاقت کے مقابلہ میں جہاد کا حکم دیا۔ مگر جب اس پہلو سے اہل اسلام کی صفوں میں کمزوری آ گئی تو اللہ تعالیٰ نے اس میں تخفیف کر دی اور صرف اپنے سے دوگنی قوت کے مقابلہ میں اقدام کی اجازت دی۔ یہ تخفیف اس گروہ کے لیے کی گئی جن کو صحابہ کہا جاتا ہے اور جو نبی آخر الزماں کے ساتھ تھا۔ آج کوئی قائد یا گروہ یہ دعویٰ کرنے کی جسارت نہیں کر سکتا کہ وہ کسی بھی اعتبار سے پیغمبر یا آپ کے اصحاب سے زیادہ مستحکم اور طاقتور ہے۔ چنانچہ آج مسلمانوں کے اوپر تخفیف کا اصول بدرجہ اولیٰ منطبق (apply) ہوتا ہے۔ اس کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں کیا گیا ہے ﴿اَلْئٰنَ خَفَّفَ اللَّهُ عَنْكُمْ ... (8:66)﴾ ۔ یعنی، اب اللہ نے تم پر سے بوجھ ہلکا کر دیا۔ 3 جون کو مغرب کی نماز کے بعد دو عرب طالب علموں سے ملاقات ہوئی۔ ایک کا نام محمد داؤد تھا جو فلسطین کے رہنے والے ہیں اور ابوظہی کے مدرسہ بن درید میں اول ثانوی میں پڑھتے ہیں۔ فون (459025) دوسرے کا نام عمار مصطفیٰ تھا جو مدرسہ ربعی بن عامر، ابوظہی میں زیر تعلیم ہیں۔ فون (458752) گفتگو کے دوران معلوم ہوا کہ وہ ابھی ابھی اپنا سالانہ امتحان دے کر فارغ ہوئے ہیں اور اب ان کی گرمی کی چھٹیاں شروع ہوئی ہیں۔ میں نے کہا کہ اسکول کا امتحان تو معمولی امتحان ہوتا ہے اس کو چند ہفتوں یا مہینوں کی محنت کے ذریعہ پاس کیا جا سکتا ہے۔ مگر ایک بہت بڑے امتحان میں پوری عرب دنیا پچھلے پچاس برس سے مبتلا ہے لیکن ابھی تک وہ اس میں کامیاب نہ ہوسکی۔ یہ امتحان فلسطین کو یہودی قبضہ سے آزاد کرانے کا مسئلہ ہے۔ پھر میں نے کہا کہ آپ لوگوں کا تعلق اس نسل سے ہے جسے اکیسویں صدی میں میدانِ عمل میں اترنا ہے۔ شاید آپ لوگ اس امتحان میں کامیاب ہو جائیں جس میں پچھلی تین نسلیں مسلسل ناکام ہوتی رہی ہیں۔ میں نے ان سے سوال کیا کہ فلسطین کو آزاد کرانے کے سلسلہ میں آپ لوگوں کا کیا خیال ہے۔ اسے طاقت کے ذریعہ آزاد کرایا جا سکتا ہے یا دعوت کے ذریعہ (ٹری،

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader