Urdu book · سفرنامہ اسپین و فلسطین

سفرنامہ فلسطین

Urdu book, p. 201

By Maulana Wahiduddin Khan

کویت کے ہفت روزہ المجتمع (18 جون 1996ء، صفحات 35-34) میں چھپا ہے۔ مذکورہ مقالہ میں یوسف القرضاوی نے مختلف دلائل کے ذریعہ یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ حماس کے نوجوانوں کا یہ اقدام شہادت طلبی کا عمل ہے، نہ کہ خودکشی کا۔ کیوں کہ دشمن کو خوف زدہ کرنے (ارھاب العدو) کی ایک جدید اور مؤثر تکنیک ہے۔ دوسرے یہ کہ ان نوجوانوں کا مقصد محض خدا کی رضا جوئی ہے اور اسلام دشمن طاقتوں کے خلاف کسی کارروائی پر اگر کوئی اس طرح اپنے کو ہلاک کرتا ہے تو یہ وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ (2:195) کا مصداق ہلاکت نہیں، بلکہ شہادت ہے۔ جس طرح صحابہ کرام کے بارے میں آتا ہے کہ مختلف غزوات میں انہوں نے اپنے آپ کو دشمن کے نرغہ میں ڈال دیا اور بالآخر شہید ہوگئے۔ اس سلسلہ میں دو باتیں ملحوظ رکھنی چاہئیں۔ اولاً یہ کہ صحابہ وغیرہ نے بعض غزوات میں جو یہ کیا کہ میدانِ جنگ میں دیوانہ وار کود پڑے اور لڑتے ہوئے شہید ہوگئے، انہوں نے ایسا میدانِ جنگ میں کیا جہاں عملاً جنگ برپا تھی، نہ کہ ایسی جگہ جہاں دشمن کے علاوہ بھی بہت سے غیر متعلق لوگ موجود ہیں۔ دوسرے یہ کہ صحابہ نے اگرچہ شہادت کے شوق میں جاں بازی دکھائی، مگر اس جاں بازی میں جتنا ان کا لڑ کر مر جانے کا امکان تھا اتنا ہی امکان اس بات کا بھی تھا کہ وہ لڑ کر دشمن کو ماریں گے اور فتح یاب ہو کر لوٹیں گے۔ قرآن کے الفاظ میں وہ جب قتال کرتے تھے تو یا دشمن کو قتل کرتے تھے یا دشمن کے ہاتھوں قتل ہوتے تھے (فَيَقْتُلُونَ وَيُقْتَلُونَ)۔ گویا صحابہ کے اقدام میں احتمالی طور پر دو بہتر نتائج (إِحْدَى الْحُسْنَيَيْن) پوشیدہ تھے۔ یعنی وہاں فتح اور شہادت دونوں کا پچاس پچاس فیصد امکان رہتا تھا۔ مگر اس کے برعکس، حماس وغیرہ کے موجودہ اقدام کا نتیجہ یقینی موت ہے۔ ایسی صورت میں اس کو صحابہ کے جاں بازانہ اقدام کے مشابہ قرار دینا قياس مع الفارق (far-fetched analogy) ہے۔ قرآن و حدیث اور آثارِ صحابہ میں اس بات کے حق میں کوئی دلیل موجود نہیں کہ جہاں پیشگی طور پر صد فیصد موت یقینی ہو ایسے موقع پر اقدام درست ہے۔ دوسری بات یہ کہ اسلام کا ایک متفقہ اصول یہ ہے کہ جہاد کے معاملہ میں مسلمانوں کی داخلی قوت اصل معیار ہے۔ اگر داخلی اعتبار سے مسلمان مستحکم ہیں تو جہاد کا اقدام کیا جائے گا، اگر داخلی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page