Urdu book · سفرنامہ اسپین و فلسطین

سفرنامہ اسپین

Urdu book, p. 22

By Maulana Wahiduddin Khan

سے دیکھیں۔ مہدی کی اصل صرف یہ ہے کہ ایک ایسے زمانہ میں جب کہ اسلام کی حقیقت گم ہو چکی ہو گی، وہ اسلام کی معرفت حاصل کرلے گا۔ گویا مہدی اصلاً ہدایت کو پانے والا ہوگا، نہ کہ ہدایت کا خارجی نظام قائم کرنے والا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ کسی شخص کا مہدی ہونا یہ اللہ کے علم کی بات ہے، اس کا یقینی علم نہ خود مہدی کو ہوگا اور نہ اس کے معاصر لوگوں کو کیوں کہ ہدایت یاب کون ہے، اس کا تعلق تمام تر علم الہی سے ہے۔ 29 نومبر کو دوپہر کے کھانے کی میز پر قاہرہ کے ڈاکٹر جمعہ(مصری بولی میں جمعہ) بھی موجود تھے۔ گفتگو کے دوران گائے (بقرہ) کا ذکر آ گیا۔ انہوں نے فوراً سورہ البقرہ کی آیتوں کی تلاوت شروع کردی۔ سب لوگ خاموش ہوکر سننے لگے۔ مصری قاریوں کی قرأت تو مجھے پسند نہیں لیکن مصری علماء کی قرأت بہت پسند ہے۔ میں نہایت شوق کے ساتھ اس کو سنتا رہا۔ عام قاری جس طرح اشباع کے ساتھ پڑھتے ہیں وہ تو مجھے بالکل غیر فطری معلوم ہوتا ہے۔ مجھے یقین نہیں آتا کہ صحابہ اس طرح قرآن کو پڑھتے ہوں گے۔ لیکن عرب علماء خاص طور پر حجاز کے علماء کی قرأت مجھے وجدانی طور پر صحابہ کے اندازِ قرأت کا تسلسل معلوم ہوتی ہے۔ اس کو سن کر تھوڑی دیر کے لیے ایسا محسوس ہونے لگتا ہے جیسے زمانہ کا فاصلہ ختم ہو گیا ہے اور ہم ایک زندہ ٹیپ ریکارڈر کے ذریعہ صحابہ کی تلاوت قرآن کو دوبارہ سن رہے ہیں۔ ایک مجلس میں کچھ عرب حضرات تھے۔ ایک صاحب نے اسپین میں مسلم سلطنت کے آخری زمانہ کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ اندلس کے آخری مسلم سلطان ابوعبداللہ نے جب الحمراء کی کنجیاں عیسائی حکمران کے حوالے کردیں اور وہ روتا ہوا غرناطہ سے نکلا تو اس کی ماں نے اس کی تو بیخ کی اور کہا: ابك مثل النساء ملكا ضائعا لم تحفظ عليه مثل الرجال اس کھوئے ہوئے ملک پر عورتوں کی طرح روؤ جس کو تم مردوں کی طرح نہ بچاسکے۔ میں نے کہا کہ ابوعبداللہ کی ماں کا یہ جملہ بہت زیادہ رائج ہے مگر وہ حقیقتِ حال کی صحیح ترجمانی نہیں۔ کیوں کہ ابوعبداللہ اور اس کی فوجیں آخری دور میں بھی نہایت بہادری کے ساتھ لڑی تھیں۔ مگر کوئی سلطان ایک فوج سے لڑ سکتا ہے وہ حقائق سے نہیں لڑ سکتا۔ اس وقت صورتحال یہ تھی کہ خود مسلمان ایک

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page