سفرنامہ اسپین
Urdu book, p. 21
By Maulana Wahiduddin Khan
میں اس کی جاذبیت ختم ہو چکی تھی۔ حتی کہ یہاں ٹھہرنے کا شوق کرنے کے بجائے اب میں واپسی کے دن گننے لگا۔ یہی دنیا کی تمام بظاہر عمدہ چیزوں کا حال ہے۔ دنیا کی ہر چیز ملنے کے پہلے دن اچھی معلوم ہوتی ہے۔ لیکن اگلے ہی دن وہ ایک معمولی چیز دکھائی دینے لگتی ہے۔ دور سے دیکھنے والے جس زندگی کو عیش کی زندگی سمجھتے ہیں وہ خود صاحب عیش کے لیے صرف بورڈم کے ہم معنی ہوتی ہے۔ یہ صرف جنت کی خصوصیت ہے کہ اس کی جاذبیت کبھی ختم نہ ہوگی۔ بلکہ ہر دن اس کی لذت بڑھتی ہی چلی جائے گی۔ دنیا میں اللہ تعالی نے عمل میں لذت رکھ دی ہے اور آخرت میں عمل کے انجام میں۔ شیخ اسحاق ادریس سکوتہ کا تعلق سوڈان سے ہے۔ صبح کے ناشتہ پر ملاقات ہوئی تو ان سے میں نے مہدی سوڈانی (1885-1844) کے بارے میں پوچھا۔ میں نے کہا کہ وہ مجھے کچھ زیادہ سمجھدار آدمی معلوم نہیں ہوتے۔ خود یہ بھی ایک کم عقلی کی بات ہے کہ کوئی آدمی مہدی ہونے کا دعویٰ کرے، مگر عوام کی ایک بھیڑ ان کے گرد اکٹھا ہو گئی۔ انہوں نے ایسے اقدام کیے جن کو صرف ناپختہ اقدام ہی کہا جا سکتا ہے۔ شیخ سکوتہ نے جواب دیا: کان یری رسول اللہ کثیراً۔ ولكن مشيئة الله فوق ذلک۔ یعنی وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں بہت زیادہ دیکھتے تھے۔ مگر اللہ کی مشیت اس سے اوپر ہے۔ خواب میں کسی کو دیکھنا یہ ایک شخص کا ذاتی معاملہ ہے۔ اس کی بنا پر مہدویت کا دعویٰ نہیں کیا جا سکتا اور نہ اس طرح کے خواب کی بنیاد پر کوئی قومی یا اجتماعی پالیسی بنائی جاسکتی ہے۔ قومی یا ملی پالیسی کی بنیاد شوڑی پر ہے۔ اس طرح کے نازک معاملات میں اہل علم کے مشورہ سے جو بات طے ہوگی وہ قابل عمل ہوگی نہ کہ کسی کا یہ کہنا کہ میں نے رسول اللہ کو خواب میں دیکھا ہے۔ یہ بھی کس قدر عجیب بات ہے کہ مہدی سوڈانی پر انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا میں تقریباً 220 سطر کا مضمون ہے اور خلیفہ دوم عمر بن خطاب پر صرف 9 سطر کا مضمون۔ مولانا ابوالاعلیٰ مودودی نے لکھا ہے کہ مہدویت دعویٰ کرنے کی چیز نہیں، وہ کرکے دکھا جانے کی چیز ہے۔ مگر یہ بات بھی صحیح نہیں۔ مہدی کے معنی ہیں ہدایت یاب۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مہدی کے لیے ضروری نہیں ہے کہ وہ کوئی بڑا سیاسی یا قومی کارنامہ کرے جس کو لوگ اپنی آنکھوں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader