Urdu book · سفرنامہ اسپین و فلسطین

سفرنامہ اسپین

Urdu book, p. 24

By Maulana Wahiduddin Khan

سازش کے تصور کے تحت مسلم تاریخ کی توجیہ کرنا مسلم قوم کو مقہور اور غیر مسلم قوم کو قاہر کے مقام پر بٹھانا ہے۔ اس طرح کا تصور تاریخ سراسر قرآن کے خلاف ہے۔ میں نے کہا کہ امت محمدی کا مستقبل تمام تر دعوت کے اوپر منحصر ہے۔ مسلمانوں کے لیے مقدر ہے کہ وہ دعوت الی اللہ کی ذمہ داری کو ادا کر کے اٹھیں گے اور دعوت الی اللہ سے کوتاہی کر کے گریں گے۔ بغداد اور غرناطہ کی سلطنت کے زمانہ میں مسلمانوں نے علمی اور مادی اعتبار سے غیر معمولی ترقی کی، مگر یہ ترقیاں ان کے لیے حفاظت کا ذریعہ نہ بن سکیں۔ تاہم خود اسی المیہ میں یہ سبق بھی موجود ہے کہ عباسی خلافت کے خاتمہ کے بعد جب مسلمانوں کے پاس سیاسی اور فوجی طاقت نہ رہی تو انہوں نے اسلام کی دعوتی طاقت کو استعمال کیا اور اس کے بعد تاریخ نے دیکھا کہ جہاں بظاہر کھنڈر تھا وہاں ایک شاندار قلعہ بن کر کھڑا ہو گیا ہے۔ تاریخ کا یہ واقعہ مسلمانوں کے لیے ایک ابدی نشان راہ ہے۔ ایک عرب دوست نے مجھے ایک کتاب ہدیہ میں پیش کی۔ 160 صفحہ کی یہ کتاب 1993ء میں مکتبہ اشبیلیہ (الریاض) سے چھپی ہے۔ اس کتاب کے مصنف عبد الرحمن عبد الوہاب ہیں اور اس کا نام ہے: تصفیة الوجود الاسلامی۔ یعنی اسلامی وجود کا خاتمہ۔ کتاب کے ایک حصہ میں بڑے جذباتی انداز میں سقوطِ غرناطہ کا ذکر ہے اور اس کے بعد کہا گیا ہے: هاهی الاندلس ضاعت واصبحت ذکری نبکی علی اطلالها ونبکی تخاذل المسلمین و تفریطهم فيها (صفحہ 10)۔ یعنی یہ ہے وہ اندلس جو کھویا گیا اور محض ایک ایسی یاد بن کر رہ گیا جس کے کھنڈروں پر ہم روتے ہیں اور جس کی حفاظت کے سلسلہ میں مسلمانوں کی کوتاہی اور دستبرداری پر آنسو بہاتے ہیں۔ میں نے کہا کہ اس قسم کی مرثیہ خوانی اسلامی روح کے سراسر خلاف ہے۔ اسلام امید اور اعتماد کا دین ہے۔ اسلام عصر میں یسر کا راز بتاتا ہے۔ اسلام کے لیے خدا نے حفاظت و نصرت کا ابدی وعدہ کیا ہے۔ ایسی حالت میں ہمیں چاہیے کہ ہم منفی پہلو میں بھی مثبت پہلو در یافت کریں۔ خود میڈرڈ کی موجودہ کانفرنس اس بات کی ایک علامت ہے کہ اسپین کے تاریخی کھنڈروں سے دوبارہ اسلام کا ایک نیا مستقبل پیدا ہورہا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page