Urdu book · سفرنامہ اسپین و فلسطین

سفرنامہ اسپین

Urdu book, p. 25

By Maulana Wahiduddin Khan

کانفرنس کے شرکاء کو میڈرد شہر کے ہوٹل میں ٹھہرایا گیا تھا۔ لیکن کانفرنس کے اجلاس الکلا یونیورسٹی میں ہوئے جو شہر سے 30 کلومیٹر دور ہے۔ لوگ روزانہ صبح کو سواریوں کے ذریعہ یونیورسٹی لے جائے جاتے۔ دن کے کھانے کا انتظام وہیں یونیورسٹی کے اندر ہوتا۔ شام کا کھانا اکثر کسی اور مقام پر کسی بڑے آدمی کی طرف سے ہوتا تھا۔ اس طرح صبح کو نکلنے کے بعد دوبارہ رات کو ہوٹل میں واپسی ہوتی۔ 28 نومبر کو صبح نو بجے ہم سب لوگ قافلہ کی صورت میں الکلا یونیورسٹی لے جائے گئے۔ یہ یونیورسٹی شہر سے دور ایک تاریخی ٹاؤن میں ہے۔ شہر اور اس کے بیرونی علاقہ کے مختلف حصوں سے گزرتے ہوئے ہم لوگ پتھر کی بنی ہوئی ایک بہت بڑی عمارت کے سامنے اترے۔ اسی قدیم محل نما عمارت میں الکلا یونیورسٹی قائم کی گئی ہے۔ اسی یونیورسٹی کے زیر اہتمام یہ کانفرنس ہو رہی ہے۔ کانفرنس کے اجلاس روزانہ اسی یونیورسٹی کے مختلف ہال میں ہوں گے۔ میڈرد اسپین کی راجدھانی ہے۔ جب میں میڈرد کے مختلف حصوں سے گزرتا تھا تو بار بار مجھے یہ خیال آتا تھا کہ یہاں کی تمام چیزیں بظاہر یورپ کے انداز پر بنائی گئی ہیں۔ مگر وہ یورپ کے زیادہ ترقی یافتہ شہروں کے معیار سے کم ہیں۔ یونیورسٹی کے بڑے ہال میں افتتاحی اجلاس ہوا۔ بتایا گیا کہ اس کانفرنس کا مقصد تینوں مذہبوں (یہودیت، عیسائیت، اسلام) میں تعلقات کو بہتر بنانا ہے۔ اظہار خیال کی زبان اسپینی، انگریزی، فرانسیسی اور عربی تھی۔ ہیڈ فون کے ذریعہ ہر آدمی اپنی مطلوب زبان میں مقرر کی بات کو سن سکتا تھا۔ میڈرد کے میئر نے تقریر کی تو پہلے کہا: سلام، شولوم۔ پھر انہوں نے اپنی تقریر شروع کی۔ انہوں نے کہا کہ قدیم اسپین میں تینوں مذہب کے لوگوں نے مل کر ایک تاریخ بنائی تھی۔ اب پھر ضرورت ہے کہ تینوں مذہب کے لوگ مل کر یہاں نئی دنیا کی تعمیر کریں۔ ایک اسرائیلی مقرر نے کہا کہ اسرائیل اور عربوں کے درمیان اقتصادی تعاون (economic cooperation) ہونا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ کسی کو بھی یہ حق نہیں ہونا چاہیے کہ وہ خدا کے نام کو ہائی جیک کرے: No one has right to highjack the name of God

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page