سفرنامہ اسپین
Urdu book, p. 30
By Maulana Wahiduddin Khan
یہاں یہودی اہل علم بڑی تعداد میں آئے ہیں۔ ان سے گفتگو کے دوران مجھے محسوس ہوا کہ ان کی فکری سطح عام لوگوں سے اونچی ہے۔ یہی احساس مجھے ان کے بارے میں پہلے بھی کئی بار ہوا ہے۔ شیخ ادریس سکوتہ سے میں نے کہا کہ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہودی زیادہ ذکی ہوتے ہیں۔ میں نے بھی اپنے تجربہ میں ایسا ہی پایا ہے۔ اس کا سبب کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کا سبب یہ ہے کہ وہ ایک امت کی مانند رہتے ہیں۔ ان کا ایک آدمی دوسرے کے لیے اضافۂ علم کا سبب بنتا ہے: لانهم امة واحدة، يعلّم بعضهم بعضا یہ ایک فطری حقیقت ہے جو حدیث میں ان الفاظ میں بتائی گئی ہے: الْمَرْءُ كَثِيرٌ بِأَخِيهِ (مسند الشهاب القضاعی ، حدیث نمبر 186)۔ یعنی انسان اپنے بھائی کے ساتھ مل کر کثیر ہو جاتا ہے۔ جس انسانی گروہ میں اجتماعی اوصاف نہ پائے جائیں، ان میں ہر شخص تنہا ہو جائے گا اور جس انسانی گروہ میں اجتماعی اوصاف موجود ہوں، اس کا ہر فرد دوسروں کے لیے طاقت بنے گا اور خود دوسروں سے طاقت لیتا رہے گا۔ اسرائیل سے آئے ہوئے ایک صاحب نے کہا کہ اس وقت کئی مسلم ملکوں میں عورت حکمراں ہے- ترکی، بنگلہ دیش اور پاکستان۔ روایتی اسلام میں تو عورت کی حکمرانی جائز نہیں۔ پھر یہ نیا ظاہر ہ کیا اسلام میں ریفارمیشن کی علامت ہے۔ میں نے کہا کہ اس کا جواب دینے سے پہلے میں آپ سے ایک سوال کروں گا۔ آپ کے یہاں مسز گولڈ امیر حکومت کے اعلیٰ عہدہ تک پہنچیں۔ ان کے دور حکومت کے بارے میں آپ کا تجربہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ بہت جذباتی تھیں۔ اگر وہ حقیقت پسند ہوتیں تو فلسطینیوں سے آج امن کا جو معاہدہ ہوا ہے، وہ گولڈ امیر کے زمانہ میں ہی ہو گیا ہوتا، جب کہ انور سادات زندہ تھے۔ اس طرح ہم بہت سے جانی اور مالی نقصان سے بچ جاتے۔ میں نے کہا کہ خود آپ کے تجربہ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ عورت کو سیاسی حکمراں بنانا مفید نہیں ۔ گویا کہ صحیح فطری اصول یہی ہے کہ عورت کو اقتدار اعلیٰ کے مقام پر نہ بٹھایا جائے۔ پھر جب یہ ایک صحیح فطری اصول ہے تو اس میں تبدیلی یا ریفارم کی کیا ضرورت ہے اور جہاں تک بعض ملکوں میں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader