Urdu book · سفرنامہ اسپین و فلسطین

سفرنامہ اسپین

Urdu book, p. 29

By Maulana Wahiduddin Khan

سے ہے۔ ان سے فلسطین کے موضوع پر گفتگو ہوئی۔ جب میں ان کو فلسطینیوں کے حق میں اپنے دلائل دے رہا تھا تو میں نے دیکھا کہ ہر دلیل کے جواب میں ایک متوازن دلیل ان کے پاس موجود ہے۔ میں نے سوچا کہ جب دونوں فریق یکساں طور پر اپنے آپ کو برحق سمجھ رہے ہوں تو آخر یہ مسئلہ کیوں کر حل ہوسکتا ہے۔ میں نے پوچھا کہ یاسر عرفات اور حکومت اسرائیل کے درمیان حال میں جو معاہدہ امن ہوا ہے اس کے بارے میں اسرائیل کی اکثریت کی سوچ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے یہاں کی اکثریت خوف (fear) میں مبتلا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم فلسطینیوں کو خاموش مدد پہنچارہے ہیں۔ ہم نے مختلف حکومتوں کو ابھارا ہے کہ وہ فلسطینیوں کو مالی مدد دیں۔ حتیٰ کہ ہم بالواسطہ ذرائع سے کام لے کر خود بھی فلسطینیوں کو مالی مدد دے رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایسا ہم اس لیے کر رہے ہیں کہ فلسطینی جب تک معاشی اعتبار سے مطمئن نہ ہوں، اس علاقہ میں امن کا قیام ممکن نہیں ہوگا۔ نادان آدمی اپنے حریف کو مار کر اسے ختم کرنا چاہتا ہے۔ دانش مند آدمی اپنے حریف کو خاموش کر کے اس کے اوپر فتح حاصل کر لیتا ہے۔ آوی شاکیت اسرائیلی حکومت میں اعلیٰ افسر ہیں۔ وہ شستہ انگریزی بول رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل عالمی برادری میں تنہائی (isolation) میں پڑ گیا تھا۔ اس تنہائی کا پہلا فائدہ ہم نے یہ اٹھایا کہ ہم یکسو ہو کر اپنی داخلی ترقی میں لگ گئے۔ مثلاً ہم نے اپنی بنجر زمینوں کو قابل کاشت بنانے پر پوری توجہ لگا دی۔ اس خاموش جدوجہد کے نتیجہ میں ہم نے جو ترقی کی اس نے اب ہم کو اس پوزیشن تک پہنچادیا ہے کہ ہم دنیا کی قوموں سے تعاون کر کے انہیں بہت کچھ دے سکیں۔ بنجر زمین کو کارآمد بنانے کے لیے ہمارے جو تجربات ہیں ان کی بنیاد پر ہمارے یہاں ایک مستقل شعبہ (Arid Zone Institute) قائم ہے۔ اس شعبہ کے تحت ہم مختلف ملکوں کو اپنا تعاون دے رہے ہیں۔ انہی ملکوں میں سے ایک آپ کا ملک انڈیا بھی ہے۔ انڈیا میں گجرات اور راجستھان میں ہمارے تعاون کے تحت کئی پروجیکٹ چل رہے ہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page