Urdu book · سفرنامہ اسپین و فلسطین

سفرنامہ اسپین

Urdu book, p. 32

By Maulana Wahiduddin Khan

اسپینی تاریخ کا سب سے زیادہ شاندار عہد تھا۔ مزید یہ کہ اسپین کی یہی وہ علمی ترقیاں تھیں جنہوں نے یورپ کی نشاتِ ثانیہ کے لیے بنیاد فراہم کی۔ اس تاریخ کو لینے کی صورت میں، ہم جدید تہذیب کے معمار قرار پاتے ہیں اور اس تاریخ کو چھوڑ دینے کی صورت میں ہمارے پاس کوئی چیز نہیں رہتی جس کو ہم فخر کے ساتھ دنیا کے سامنے پیش کر سکیں۔ اس قسم کے اسپینی اہل علم کی فہرست بہت لمبی ہے۔ مثال کے طور پر ڈاکٹر گائیننگوس، ڈاکٹر امریکیوکاسترو، ڈاکٹر بدرومارٹینیر، مونتابث وغیرہ۔ اسپین کے لوگوں کی اس کوشش کو عرب دانش وروں نے آسبنة التاريخ الاسلامی فی الاندلس کا نام دیا ہے۔ یعنی اندلس کی اسلامی تاریخ کو اسپینی بنانا۔ مگر خود اسپینی اس کو اپنے بھولے ہوئے ماضی کی طرف واپسی قرار دیتے ہیں۔ 28 نومبر کی صبح کو میں ہوٹل میں ناشتہ کی میز پر تھا۔ اچانک کسی نے میرے اوپر اپنا ہاتھ رکھا۔ پیچھے مڑ کر دیکھا تو شیخ اسحاق ادریس سکوتہ (57 سال) تھے۔ وہ ایک سوڈانی عالم ہیں اور آج کل رابطہ عالم اسلامی کے تحت مکہ میں مقیم ہیں۔ ان سے دیر تک باتیں ہوتی رہیں۔ میں نے پوچھا کہ شیخ حسن البنا تو ابتدا میں ایک مذہبی واعظ تھے اور اس اعتبار سے وہ ایک اچھا کام کر رہے تھے۔ پھر وہ غیر ضروری طور پر سیاست اور انتخابات میں کیوں کود پڑے۔ آخر انہوں نے اس بات کو کیوں نہیں جانا کہ سیاست میں داخل ہو کر وہ صرف بگاڑ میں اضافہ کریں گے، حالات کے اعتبار سے یہ ناممکن ہے کہ اس طرح وہ ملک میں کوئی مثبت سیاسی نتیجہ پیدا کر سکیں۔ شیخ سکوتہ نے جواب دیا کہ وہ ایک صوفی آدمی تھے۔ وہ سیاست نہیں جانتے تھے۔ مگر ان کے وعظوں اور تقریروں سے جب مسلمانوں کی بھیڑ ان کے گرد اکٹھا ہونے لگی تو کچھ لوگوں نے انہیں استعمال کیا (کان الشيخ حسن البنا رحمه الله ليس عارفا للسياسة بل كان رجلاً صوفياً، استعمله الذين أرادوا الحكم من خلاله)۔ انہوں نے مزید کہا کہ سلفی رجحان رکھنے والے نوجوان یہ چاہتے تھے کہ اپنے انتہا پسندانہ خیالات کی تائید کے لیے وقت کی کسی مشہور و مقبول شخصیت کو اپنے نمائندہ یا ترجمان کے طور پر پیش کریں۔ اس کے لیے وہ محمد عبدہ اور رشید رضا وغیرہ کو استعمال کرنے میں ناکام رہے۔ یہاں تک کہ حسن البنا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page