سفرنامہ اسپین
Urdu book, p. 33
By Maulana Wahiduddin Khan
ظاہر ہوئے جو بیک وقت اہل سنت والجماعت سے بھی تعلق رکھتے تھے اور اسی کے ساتھ متصوفانہ حلقوں سے بھی ان کے گہرے روابط تھے۔ چنانچہ انتہا پسند نو جوانوں کے مذکورہ طبقہ نے ان کی طرف توجہ کی اور وہ ان کو استعمال کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ کچھ عرب حضرات کی ایک مجلس میں یہ ذکر تھا کہ مسلمان ساری دنیا میں غیر مسلموں کے عدوان کا شکار کیوں ہیں۔ ان لوگوں کی رائے یہ تھی کہ اسپین میں مسلم اقتدار کے خاتمہ سے لے کر اب تک جتنے مصائب پیش آ رہے ہیں وہ سب اعدائے اسلام کی عالمی سازشوں (مؤامرات) کا نتیجہ ہیں۔ اعدائے اسلام متحد ہو کر اسلام اور مسلمانوں کا خاتمہ کر دینا چاہتے ہیں، صدیوں سے پیش آنے والے تمام المناک واقعات اسی سازش کے مختلف مظاہر ہیں۔ میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ کے مسلم دانشوروں کے پاس ان مخالفانہ واقعات کی توجیہہ کے لیے ایک ہی لفظ ہے اور وہ مؤامرات اعداء ہے۔ مگر یہ توجیہہ کتاب اللہ کی نفی کے ہم معنی ہے۔ قرآن میں بار بار مختلف الفاظ میں یہ بات کہی گئی ہے کہ اللہ اہل اسلام کا ولی و کارساز ہے۔ دنیا میں ان کے معاملہ کو خدا نے اتنا زیادہ مستحکم کر دیا ہے کہ اب انہیں انسانوں سے نہیں ڈرنا ہے بلکہ صرف خدا سے ڈرنا ہے۔ مگر آپ لوگ اور مسلم دنیا کے دوسرے علماء جو کچھ کہہ رہے ہیں اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ معاملات دنیا کی باگ ڈور تمام تر تصرف اعدائے اسلام کے ہاتھ میں ہے اور خدا کا اس میں کوئی دخل نہیں۔ تاریخ کا یہ تصور سراسر اسلام کے خلاف ہے۔ میں نے کہا کہ قرآن میں یہ بتایا گیا ہے کہ اس دنیا میں انسان ایک دوسرے کے عدو (دشمن) رہیں گے۔ یہاں عداوت سے مراد تحدی ہے۔ یعنی انسان ایک دوسرے کے لیے چیلنج بنیں گے۔ تحدیات (چیلنج) کے زینوں کو طے کرتی ہوئی انسانی تاریخ اپنا ترقی کا سفر کرے گی۔ دنیا میں ہمارے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے اس کو آپ فطرت کے اسی قانون کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کریں۔ میں نے کہا کہ مخالفانہ واقعات کے وجود سے مجھے انکار نہیں۔ مگر آپ کو چاہیے کہ ان واقعات کی توجیہہ آپ مؤامرات ( سازشوں ) کے تصور سے نہ کریں، بلکہ تحدیات ( چیلنج ) کے تصور سے کریں۔ یہ تحدیات کسی مفروضہ دشمن اسلام کی گھڑی ہوئی نہیں ہیں بلکہ خود خالق کائنات کا مقرر کردہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader