Urdu book · سفرنامہ اسپین و فلسطین

سفرنامہ اسپین

Urdu book, p. 52

By Maulana Wahiduddin Khan

آدمیوں کا لشکر تھا۔ انہوں نے اس وقت کے اسپینی حکمراں لذیریق (Roderick) کی فوجوں کو 19 جولائی 711ء کو شکست دے کر اسپین میں پہلی مسلم سلطنت قائم کی۔ یہ اسپین کی مسلم سلطنت کا ابتدائی دور تھا جس کو عرب امراء کا عہد (756-711ء) کہا جاتا ہے۔ اس کے بعد عباسیوں کی دارو گیر سے بھاگ کر ایک اموی شہزادہ عبدالرحمن الداخل اسپین پہنچا۔ اس نے مقامی امراء کو شکست دے کر 756ء میں امیر اندلس ہونے کا اعلان کیا اور اسپین (اندلس) میں باقاعدہ اموی خلافت قائم کی۔ مسلسل باہمی اختلاف اور ٹکراؤ کے باوجود اس زمانہ میں مسلمانوں نے اسپین کو بہت ترقی دی۔ یہاں تک کہ ترقیاتی قوتوں پر اختلافی قوتیں غالب آ گئیں۔ 1023ء کے بعد وہ دور شروع ہوا جس کو ملوک الطوائف کا دور کہا جاتا ہے۔ اب ہر علاقہ کے سرداروں نے خود مختاری کا اعلان کر کے اندلس میں چھوٹی چھوٹی حکومتیں قائم کر لیں۔ یہاں تک کہ ان کی 20 مختلف حکومتیں قائم ہو گئیں۔ زمانہ میں مسلمانوں کے باہمی اختلاف سے عیسائیوں نے خوب فائدہ اٹھایا۔ طارق بن زیاد کے اسپین میں داخلہ کے بعد مسیحی فوج سے اس کا فیصلہ کن مقابلہ وادی لکہ میں ہوا تھا۔ اس وقت طارق کے ساتھ (مزید کمک کو شامل کرتے ہوئے بارہ ہزار آدمیوں کا لشکر تھا اور مسیحی فوج کی تعداد سٹّر ہزار سے زیادہ تھی۔ اس موقع پر طارق نے پرجوش تقریر کی جو تاریخ کی کتابوں میں نقل ہوئی ہے۔ اس کی تقریر کا ایک جملہ یہ تھا کہ اس موقع سے فائدہ اٹھانا تمہارے لیے ممکن ہے اگر تم اپنے آپ کو موت کے حوالے کر دو (وإن انتهاز الفرصة فيه لممكن لكم إن سمحتم بأنفسكم للموت) وفيات الأعيان لابن خلكان، جلد 5، صفحہ 321۔ ایک عرب اسکالر نے اس کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آج مسلمانوں میں یہ اسپرٹ موجود نہیں، اسی لیے وہ ہر جگہ ذلیل ہو رہے ہیں۔ میں نے کہا کہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ اگر آپ موت کے منہ میں کود پڑیں تو آپ غالب آ جائیں گے۔ موجودہ زمانہ میں بار بار مسلمان موت کے منہ میں کودے ہیں۔ 1857ء میں ہندوستانی علماء شامی کے میدان میں موت کے منہ میں کود پڑے۔ سید احمد شہید بریلوی کا قافلہ بالا کوٹ میں موت کے منہ میں کود پڑا۔ اسی طرح فلسطین، کشمیر، چیچنیا، بوسنیا وغیرہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page