Urdu book · سفرنامہ اسپین و فلسطین

سفرنامہ اسپین

Urdu book, p. 53

By Maulana Wahiduddin Khan

میں مسلمان موت کے منہ میں کودے ہوئے ہیں۔ مگر ان تمام اقدامات میں تباہی کے سوا کچھ اور مسلمانوں کے حصہ میں نہیں آیا۔ اس طرح کے مقابلوں میں کامیابی کے لیے موت کے منہ میں کودنا صرف ایک جزئی عامل (factor) ہوتا ہے، نہ کہ کلی عامل۔ اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ مسلمانوں نے پورے ملک اسپین پر اپنی حکومت قائم کر لی تھی۔ مثلاً ریاض کے مجلہ الفیصل شعبان 1415 (جنوری 1995ء) میں شائع شدہ ایک مضمون میں کہا گیا ہے کہ آٹھویں صدی عیسوی میں طارق بن زیاد المغرب کے راستہ سے اسپین میں داخل ہوا۔ اس کے ساتھ عربوں اور بربروں پر مشتمل ایک چھوٹی سی فوج تھی۔ چار سال کی جنگی سرگرمیوں کے بعد اسلامی لشکر نے پورے اسپین پر غلبہ حاصل کر لیا (...الی آن سيطرت الجيوش الاسلامية على كل اسبانيا) صفحه 75۔ مگر یہ بات صحیح نہیں۔ اصل یہ ہے کہ اسپین کے بڑے حصہ پر مسلمان غالب آ گئے تھے۔ تاہم ملک کا ایک حصہ پھر بھی عیسائیوں کے قبضہ میں رہا۔ 910ء میں مسلمان اپنی آخری حد پر پہنچ چکے تھے_ مگر اس وقت بھی اسپین کے مغربی حصہ میں مسیحی ریاستیں قائم تھیں۔ مسیحیوں کا زیر قبضہ علاقہ پورے ملک کے رقبہ کا تقریباً چوتھائی حصہ تھا۔ مسلمانوں کے زیر قبضہ علاقہ کو اندلس کہا جاتا ہے _(EB. 17/415) اسپین (اندلس) کے مسلم عہد کی آبادی کے بارے میں حتمی اعداد و شمار حاصل نہیں ہیں۔ اندازہ کیا گیا ہے کہ مسلمانوں کے داخلہ کے وقت اسپین کے باشندوں کی تعداد تقریباً چالیس لاکھ (4,000,000) تھی۔ اس کے بعد جو عرب ہجرت کر کے وہاں گئے ان کی مجموعی تعداد پچاس ہزار سے زیادہ نہ تھی۔ بارسلونہ یونیورسٹی میں عربی کے پروفیسر جان جینز (Juan Vernet Gines) نے لکھا ہے کہ قبضہ کی ابتدائی صدیوں میں قبولِ اسلام کی لہر کی وجہ سے مسلم آبادی برابر بڑھتی رہی۔ اس نے اسپین کے عیسائیوں کی تعداد میں نمایاں کمی کر دی: The Muslim masses continued to increase during the early centuries of the occupation, becase of the wave of conversion that markedly reduced the number of Christians. (EB. 17/419)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page