سفرنامہ اسپین
Urdu book, p. 58
By Maulana Wahiduddin Khan
نائب کے طور پر تھا پھر جزیرۃ خضراء کے مسیحی حاکم نے اس سے اپنے دشمن کے خلاف مدد مانگی۔ اس کے بعد طارق سبتہ کے راستہ سے اندلس میں داخل ہوا۔ اس نے فرنگیوں کی باہمی لڑائی سے فائدہ اٹھایا اور اندلس میں داخل ہو کر قرطبہ کو فتح کیا اور اس کے بادشاہ کو قتل کر دیا۔ پھر اس نے موسیٰ بن نصیر کو فتح کی خبر بھیجی: فَحَسَدَهُ مُوسَى عَلَى الِانْفِرَادِ بِهَذَا الْفَتْحِ الْعَظِيمِ، وَكَتَبَ إِلَى الْوَلِيدِ يُبَشِّرُهُ بِالْفَتْحِ وَيَنْسِبُهُ إِلَى نَفْسِهِ (البدايه والنهايه، جلد 9، صفحه (99) ۔ یعنی، طارق بن زیاد کے تنہا فاتح بننے پر موسیٰ بن نصیر نے اس سے حسد کیا اور خلیفہ ولید کو فتح کی خوشخبری بھیجتے ہوئے اس فتح کو اپنی طرف منسوب کیا۔ مگر اس طرح کے فیصلے تاریخ کرتی ہے نہ کہ کسی کے لکھے ہوئے یا بولے ہوئے الفاظ۔ چنانچہ موسیٰ بن نصیر کی اس تحریر کے باوجود تاریخ میں طارق بن زیاد ہی کو فاتح اسپین لکھا گیا اور اسپین کے ساحل پر وہ جس پہاڑی کے پاس اترا تھا وہ پہاڑی اسی کی طرف منسوب ہو کر جبل الطارق (جبرالٹر) کے نام سے مشہور ہوئی: Its name is derived from the Arabic Jabal Tariq (Mr. Tarik), honouring Tarik ibn Ziyad, who captured the peninsula in AD 711. (EB. 8/156) 711ء میں اسپینی پہاڑی کا نام ایک مسلمان طارق بن زیاد کے نام پر رکھا گیا تھا۔ اس کے 1140 سال بعد ہندوستان کے پہاڑ کا نام ایورسٹ انگریز کے نام پر رکھا گیا جس کا نام سرجان ایورسٹ تھا۔ وہ انڈیا میں تیرہ سال تک سرویر جنرل رہا۔ اسی نے پہلی بار 1852ء میں یہ دریافت کیا کہ ایورسٹ سطح زمین پر سب سے اونچی چوٹی ہے۔ اس کا ذکر کرتے ہوئے میں نے ایک صاحب سے کہا کہ یہ دونوں واقعہ علامتی طور پر بتاتا ہے کہ انیسویں صدی کے مسلمانوں کے مقابلہ میں آٹھویں صدی کے مسلمانوں میں کیا فرق تھا۔ پہلے زمانہ کے مسلمان اعلیٰ عزم وحوصلہ کے مالک تھے۔ اس لیے ان کا نام پہاڑوں کی چوٹیوں پر لکھا گیا۔ اس کے بعد انیسویں صدی میں دوسری قومیں عزم و حوصلہ میں آگے بڑھ گئیں، اس لیے اب ان کا نام پہاڑوں کی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader