Urdu book · سفرنامہ اسپین و فلسطین

سفرنامہ اسپین

Urdu book, p. 60

By Maulana Wahiduddin Khan

چوٹیوں پر لکھا جانے لگا۔ یہ انسانی اوصاف میں فرق کا معاملہ ہے نہ کہ کسی تعصب اور سازش کا معاملہ۔ کہا جاتا ہے کہ دوسری عالمی جنگ (45-1939) تک یورپ کے چھوٹے بڑے آٹھ سامراجی ممالک دنیا پر اپنا تسلط قائم کیے ہوئے تھے۔ مگر دوسری عالمی جنگ کے بھونچال نے ان سب کا خاتمہ کر دیا۔ یہ تھے ـــــ برطانیہ، فرانس، جرمنی، ہالینڈ، بیلجیم، اٹلی، پرتگال اور اسپین۔ امریکہ کو دریافت کرنے والا کرسٹوفر کولمبس اٹلی میں پیدا ہوا، مگر اس کی وفات اسپین میں ہوئی۔ کولمبس کو اپنی سمندری مہم میں اسپین کی کوئن ازابیلا (Isabella I) سے خصوصی مدد لینی پڑی۔ جس نے اس مہم کی سرپرستی قبول کر لی تھی۔ (10/691، 9/907) واشنگٹن کی نیشنل گیلری آف آرٹ میں لکڑی کے تختہ پر پینٹنگ کے ذریعہ کولمبس کی مہم کا نقشہ آرٹسٹ کے تخیل کے مطابق بنایا گیا ہے۔ اس کی تصویر ذیل میں درج ہے۔ امریکہ کے جنوب مشرقی علاقہ میں ایک ریاست ٹینیسی (Tennessee) ہے، وہ 1796ء میں سولہویں اسٹیٹ کی حیثیت سے یو ایس اے میں شامل کی گئی۔ اس ریاست کے پہاڑی علاقہ میں ایک قوم بستی ہے جس کو میلنجین (Melungeon) کہا جاتا ہے۔ یہ لوگ سیاہ فام ہوتے ہیں۔ ان کی موجودہ تعداد ایک ملین سے زیادہ ہے۔ ان کا بھی ایک آدمی کافرنس میں شریک تھا۔ شکاگو میں 5-2 ستمبر 1994 کو چار مسلم تنظیموں کا ایک مشترک اجتماع ہوا۔ اس میں تقریباً سولہ ہزار ڈیلی گیٹ شریک ہوئے۔ اس میں ایک ڈاکٹر کینیڈی (Dr. N. Brent Kennedy) تھے۔ انہوں نے اپنی تقریر میں بتایا کہ میں نے اپنے آباء اجداد اور میلنجین لوگوں کے بارے میں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page