سفرنامہ اسپین
Urdu book, p. 61
By Maulana Wahiduddin Khan
ریسرج کی ہے۔ میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ ہمارے آباؤ اجداد اسپینی مسلمان (Spanish Muslims) تھے۔ جو دار و گیر (Persecution) کے زمانہ میں وہاں سے بھاگ کر امریکہ آگئے۔ انہوں نے بتایا کہ میں اپنی قوم کی اس تاریخ پر ایک فلم بنا رہا ہوں۔ اسپین میں جو مسلمان داخل ہوئے وہ محض لینے والے بن کر وہاں نہیں گئے بلکہ دینے والے بن کر گئے۔ یہ عرب اس وقت ایک تازہ دم قوم کی حیثیت رکھتے تھے۔ انہوں نے صحرائی دنیا سے نکل کر ایک سرسبز و شاداب دنیا کو دریافت کیا تھا۔ اس دریافت نے ان کے اندر نیا ولولہ پیدا کیا۔ اسپین جیسے زرخیز ملک میں ان کو ہر قسم کے مواقع ملے۔ چنانچہ انہوں نے اس ملک کی امکانات کو استعمال کر کے اس کو وقت کا سب سے زیادہ ترقی یافتہ ملک بنا دیا۔ اس کی تفصیل بہت سی کتابوں میں دیکھی جاسکتی ہے۔ جو لوگ صرف ایک کتاب پڑھنا چاہیں وہ درج ذیل کتابوں کا مطالعہ کریں: Philip K. Hitti, History of the Arabs برٹرینڈ رسل نے اپنی کتاب (A History of Western Philosophy) میں لکھا ہے کہ اسپین میں عرب اقتصادیات کی ایک بہترین خصوصیت ان کی زراعت تھی۔ خاص طور پر آبپاشی کا ماہرانہ استعمال جس کو انہوں نے کم پانی کے علاقہ میں رہ کر سیکھا تھا۔ آج بھی اسپینی زراعت عربوں کے آبپاشی نظام سے فائدہ اٹھارہی ہے: One of the best features of the Arab economy was agriculture, particularly the skilful use of irrigation, which they learnt from living where water is scarce. To this day Spanish agriculture profits by Arab irrigation works. (p.416) یہ کہنا بہت عجیب ہے کہ ان مسلمانوں نے عرب کے ریگستانوں میں آبپاشی کا نیا نظام سیکھا تھا۔ اصل یہ ہے کہ وہ زندگی کے عزائم سے بھرے ہوئے تھے اور جو قوم زندگی کے عزائم سے بھری ہوئی ہو وہ اسی طرح بڑے بڑے کارنامے انجام دیتی ہے۔ جے ایم رابرٹس ایک منصف مزاج مورخ سمجھا جاتا ہے۔ اس نے تاریخ کے موضوع پر بہت سی کتابیں لکھی ہیں۔ انہیں میں سے ایک 1050 صفحہ کی کتاب دنیا کی تاریخ ہے: J.M. Roberts, The Pelican History of the World.

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader