سفرنامہ اسپین
Urdu book, p. 8
By Maulana Wahiduddin Khan
لکھ کر ہمیں یا تو دستی طور پر دے دیں یا بذریعہ ڈاک بھیج دیں۔ آٹھویں نمبر پر عربی عبارت تھی۔ اس کے الفاظ یہ تھے: الرجاء تزويدنا بملا حظاتكم على خدمتنا على الأرض و اثناء السفر و ان تدو نوا كذلك مقترحاتكم على هذه البطاقة ثم ارسالها بالبريد أو تسليمها الى طاقم الطائرة شکرا ۔ (الخطوط الجوية الفرنسية) ہوائی کمپنی ایک تجارتی ادارہ ہے۔ تاجر اپنے بارے میں لوگوں کا تبصرہ جاننے کا حریص ہوتا ہے۔ تاکہ وہ لوگوں کے مزاج کی رعایت کرکے اپنی تجارت کو زیادہ سے زیادہ مقبول بنائے ۔ اسی طرح داعی بھی مدعو کی ہر بات کو نہایت دھیان کے ساتھ سنتا ہے۔ کیوں کہ اس طرح اس کے لیے ممکن ہو جاتا ہے کہ وہ مدعو کے مزاج کو سمجھ کر اپنی دعوت کو اس کے لیے زیادہ مؤثر اور قابل قبول بنا سکے۔ ہوائی جہاز کی سواری مجھ کو ایک خدائی نشانی نظر آتی ہے۔ ہوائی جہاز کی ایک عجیب صفت یہ ہے کہ وہ انسان کی اُس کمزوری (vulnerability) کو ممثل کرتا ہے جو زمین کے اوپر اسے حاصل ہے۔ زمین فٹ بال کی مانند ایک بڑا سا گولا ہے جو خلا میں تیز رفتاری کے ساتھ گھوم رہا ہے۔ خلا میں گردش کرتے ہوئے اس کرہ پر انسان آباد ہے۔ زمین کی اس مسلسل خلائی پرواز میں اگر ذرا سا بھی خلل پڑ جائے تو ایک لمحہ میں پوری انسانی نسل کا خاتمہ ہو جائے۔ کرۂ زمین پر اپنی اس غیر محفوظیت کو انسان اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھتا ، اس لیے وہ اس کو محسوس بھی نہیں کر پاتا ۔ ہوائی جہاز آدمی کی اسی غیر محفوظ حالت کا محدود سطح پر ایک وقتی مظاہرہ ہے۔ ہوائی جہاز انسان کی حیثیت عجز کی گویا ایک مشینی یاد دہانی ہے۔ اس دنیا کی ہر چیز اس لیے ہے کہ آدمی اس سے روحانی تجربہ حاصل کرے۔ مگر یہ روحانی تجربہ صرف اس کے حصہ میں آتا ہے جو میٹر میں نان میٹر کو دیکھنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ راستہ میں وال اسٹریٹ جرنل (بروسیلز) کا شمارہ 26-25، نومبر 1994 ء دیکھا۔ اس میں سب کی سب تجارتی نوعیت کی خبریں تھیں۔ ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ ترکی کپڑے کے ایکسپورٹ میں فرانس اور اٹلی کے بعد یورپ میں تیسرے نمبر پر تھا۔ پچھلے سال اس نے چار بلین

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader