سفرنامہ اسپین
Urdu book, p. 9
By Maulana Wahiduddin Khan
ڈالر سے زیادہ کے کپڑے ایکسپورٹ کیے۔ مگر اب مقابلہ کی وجہ سے ترکی کی یہ صنعت زوال کی طرف جا رہی ہے۔ ایک ترک ایکسپورٹر نے کہا: Ours could soon be a dying industry. (p.4) ایئر ہوسٹس مشروبات کی گاڑی لے آئی۔ میرے قریب کی سیٹ پر جو صاحب بیٹھے ہوئے تھے انہوں نے وسکی مانگی۔ میں نے آریج جوس کے لیے کہا۔ میز پر جب دونوں گلاس رکھے گئے تو میں نے دیکھا کہ دونوں مشروب کا رنگ بالکل یکساں ہے۔ اگرچہ ایک شراب تھی اور دوسرا خالص آریج کا رس۔ مجھے ایسا محسوس ہوا کہ دنیا میں چیزیں مشابہ انداز میں پیدا کی گئی ہیں۔ حتیٰ کہ حق جس طرح عمدہ الفاظ میں بیان کیا جا سکتا ہے، اسی طرح باطل بھی خوبصورت الفاظ میں ڈھل جاتا ہے۔ یہ مشابہت برائے امتحان ہے، اس لیے آدمی کو موجودہ دنیا میں بے حد چوکس ہو کر رہنا ہے۔ ورنہ وہ ایک مشروب کو فروٹ جوس سمجھ کر پینے لگے گا۔ حالاں کہ بعد کا انجام بتائے گا کہ وہ پھل کے رس کے رنگ میں شراب تھی۔ جس کو وہ نادانی اور بے شعوری کے تحت پی گیا۔ جس ہمسفر نے شراب لی تھی، ان سے بات کرتے ہوئے میں نے پوچھا کہ شراب پینے سے آپ کو کیا فائدہ ملتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ نہیں۔ میں نے پوچھا کہ پھر آپ کیوں شراب پیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تناؤ دور کرنے (relaxation) کے لیے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی عمر 30 سال ہو چکی ہے۔ مگر وہ کئی گھریلو مسائل سے دوچار ہیں، اب تک انہوں نے شادی بھی نہیں کی۔ اس لیے ذہن پر مستقل بوجھ رہتا ہے، اس بوجھ کو اتارنے کے لیے وہ شراب پیتے ہیں۔ اکثر شراب نوشوں کا یہی حال ہے۔ اس جہاز میں مدراس کے ایک ہندوستانی سے ملاقات ہوئی۔ وہ میکانیکل انجینئر ہیں اور ان کا نام آرو جے کمار ہے۔ وہ ایک شپنگ کمپنی (اینگلو ایسٹرن شپ مینجمنٹ لمیٹڈ) میں ملازم ہیں۔ وہ پانچ سال سے سمندری جہاز میں کام کرتے ہیں۔ گفتگو کے دوران میں نے پوچھا کہ سمندر میں جب طوفان آتا ہے تو اس وقت آپ لوگ کیا کیا کرتے ہیں۔ انہوں نے جواب دیا کہ اس وقت ہم انتظار کرتے ہیں۔ کیوں کہ ہم نیچر کے خلاف نہیں جاسکتے: We are supposed to wait. Because we cannot go against the nature.

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader