Urdu book · صومِ رمضان

صومِ رمضان

Urdu book, p. 9

By Maulana Wahiduddin Khan

طور پر اس ذمہ داری کو قبول کریں کہ انھیں ہر قسم کی ناخوش گواریوں کو برداشت کرنا ہے، تاکہ اللہ کا پیغام لوگوں کے لیے قابل قبول ہو سکے، حتی کہ اس مقصد کے لیے وہ بھوک اور پیاس کی مشقت برداشت کرنے کے لیے راضی ہو جائیں۔ ایسے لوگ اللہ کے خاص بندے ہیں، وہ اس کے مستحق ہیں کہ اللہ اُن پر اپنی خصوصی نوازشوں کی بارش کرے۔ روزے دار کا اللہ کے لیے اپنی خواہشوں کو چھوڑنا یہ ہے کہ وہ ذاتی کامیابی کے بجائے اللہ کے دعوتی مشن کو اپنا مقصد بنائے۔ وہ خدا کی کتاب کے نزول کے مہینہ میں خصوصی تربیتی کورس کے ذریعہ اپنے آپ کو اس کے لئے تیار کرے کہ وہ خدا کے پیغام کو تمام انسانوں تک پہنچاۓ گا۔ وہ قرآن کی دعوت و تبلیغ کو اپنی زندگی کا مشن بناۓ گا، نہ کہ ذاتی مفاد کے حصول کو۔ اس کی زندگی کا مرکز و محور قرآن ہوگا اور صرف قرآن۔ صبر کا مہینہ حضرت سلمان فارسی کی ایک روایت حدیث کی کتابوں میں آئی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ — شعبان کے مہینے کے آخری دن، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو خطاب فرمایا۔ یہ ایک تفصیلی حدیث ہے۔ اس کے کچھ حصے یہ ہیں: يا أيها الناس، قد أظلكم شهر عظیم، شهر مبارک، شهر فيه ليلة خير من ألف شهر، جعل الله صيامه فريضةً وقيام ليله تطوّعا... هو شهر الصبر، والصبر ثوابه الجنة (رواه البيهقى فى شعب الإيمان، جلد 2، صفحه 305) یعنی اے لوگو، ایک عظیم مہینہ تمھارے اوپر سایہ فگن ہو رہا ہے۔ یہ ایک بابرکت مہینہ ہے۔ اللہ نے اس مہینے کے روزے کو فرض قرار دیا ہے اور اس مہینے کی رات میں قیام کو تطوع قرار دیا ہے۔ ..... رمضان کا مہینہ صبر کا مہینہ ہے۔ اور صبر کا بدلہ جنت ہے۔ "صبر کا مہینہ" کا مطلب ہے ۔ مشقت کا مہینہ۔ رمضان کے مہینے میں آدمی کو اپنے معمولات کو توڑنا پڑتا ہے۔ اس کو یہ کرنا پڑتا ہے کہ وہ پیاس کے باوجود پانی نہ پئے، اور بھوک کے باوجود کھانا نہ کھائے، وہ اپنی خواہشات (desires) کو کنٹرول میں رکھے۔ رمضان کو اگر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page