صومِ رمضان
Urdu book, p. 10
By Maulana Wahiduddin Khan
درست طور پر گزارا جائے تو پورا کا پورا مہینہ مشقتوں کا مہینہ بن جائے گا۔ سچے روزہ دار کے لیے رمضان کا مہینہ مسلسل صبر کا مہینہ ہے، دن کے اوقات میں بھی اور رات کے اوقات میں بھی۔ جو عمل صبر کی قیمت پر کیا جائے، وہ اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ قیمتی عمل ہوتا ہے۔ عام حالات میں انسان جو عمل کرتا ہے، اُس میں اُس کی شخصیت کا صرف جزئی حصہ شامل ہوتا ہے۔ لیکن جس عمل کو انجام دینے کے لیے صبر کرنا پڑے، اُس میں آدمی کی پوری شخصیت فعال (active) طور پر شامل ہو جاتی ہے۔ یہی فرق ہے جس کی بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ عام عمل کے مقابلے میں، صابرانہ عمل کی اہمیت بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے اور اس بنا پر اُس کی جزا بھی۔ رمضان کو پانے والا وہ ہے جس کے لیے رمضان کا مہینہ حقیقی معنوں میں صابرانہ زندگی کی تیاری کا مہینہ بن جائے، ایسی صابرانہ زندگی جو پورے سال کے لیے آدمی کو صبر کے راستے پر قائم رکھنے والی بن جائے۔ روزہ اور انسانی ہمدردی حضرت سلمان فارسی سے ایک طویل روایت آئی ہے۔ اس روایت میں رمضان کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ الفاظ آئے ہیں: ہو شهر المواساة (رواه البيهقي في شعب الإيمان، باب في الصيام، فصل في فضائل شهر رمضان) یعنی رمضان کا مہینہ انسانی ہمدردی کا مہینہ ہے۔ مذکورہ حدیثِ رسول میں رمضان کو مواسات (philanthropy) کا مہینہ کہا گیا ہے۔ مواسات کا مطلب یہ ہے کہ انسان کے ساتھ مالی، یا غیر مالی مدد کا معاملہ کیا جائے۔ اس کے لیے قرآن میں ’مرحمةً‘ (البلد: 17) کا لفظ آیا ہے۔ مرحمہ کے معنی بھی تقریباً وہی ہیں جو مواسات کے معنی ہیں، یعنی انسان کے ساتھ ہمدردی اور مہربانی کا معاملہ کرنا (الرحمةُ علی الخَلْق)۔ مواسات ایک اخلاقی فریضہ ہے جو ہمیشہ اور ہر حال میں اہل ایمان سے مطلوب ہوتا ہے، لیکن رمضان کے مہینے میں اس اخلاقی ذمے داری کی اہمیت بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader