Urdu book · صومِ رمضان

صومِ رمضان

Urdu book, p. 2

By Maulana Wahiduddin Khan

دوسری طرف، روزہ آدمی کے لیے تقویٰ کی تربیت ہے۔ تقویٰ یہ ہے کہ آدمی دنیا کی زندگی میں خدا کی منع کی ہوئی چیزوں سے بچے، وہ اُن چیزوں سے رکا رہے جن سے خدا نے اُس کو روکا ہے اور وہ وہی کرے جس کے کرنے کی خدا نے اس کو اجازت دی ہے۔ روزے میں صرف رات کو کھانا اور دن کو کھانا، پینا چھوڑ دینا، گویا اللہ کو اپنے اوپر نگراں بنانے کی مشق ہے۔ مومن کی پوری زندگی ایک قسم کی روزہ دارانہ زندگی ہے۔ رمضان کے مہینے میں وقتی طور پر چند چیزوں کو چھوڑ کر، آدمی کو یہ تربیت دی جاتی ہے کہ وہ ساری عمر کے لیے اُن چیزوں کو چھوڑ دے جو اِس کے رب کو ناپسند ہیں۔ قرآن، بندے کے اوپر اللہ کا انعام ہے اور روزہ بندے کی طرف سے اِس انعام کا عملی اعتراف۔ روزے کے ذریعہ بندہ اپنے آپ کو اللہ کی شکر گزاری کے قابل بنا تا ہے اور اپنے اندر یہ صلاحیت پیدا کرتا ہے کہ وہ قرآن کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق ، دنیا میں متقیانہ زندگی گزار سکے۔ روزہ رکھنے سے دل کے اندر نرمی اور شکستگی آتی ہے۔ اس طرح، روزہ آدمی کے اندر یہ صلاحیت پیدا کرتا ہے کہ وہ اُن کیفیات کو محسوس کر سکے جو اللہ کو اپنے بندوں سے مطلوب ہیں۔ روزے کی پر مشقت تربیت، آدمی کو اس قابل بناتی ہے کہ اللہ کی شکر گزاری میں اس کا دل تڑپے، اور اللہ کے خوف سے اس کے اندر کپکپی پیدا ہو ۔ جب آدمی اس نفسیاتی حالت کو پہنچتا ہے، اُسی وقت وہ اِس قابل بنتا ہے کہ وہ اللہ کی نعمتوں پر ایسا شکر ادا کرے جس میں اُس کے دل کی دھڑکنیں شامل ہوں، وہ ایسے تقویٰ کا تجربہ کرے جو اُس کے بدن کے رونگٹے کھڑے کر دے، وہ اللہ کو ایک ایسے بڑے کی حیثیت سے پائے جس میں اس کا اپنا وجود بالکل چھوٹا ہو گیا ہو۔ رمضان کا مہینہ وہ مہینہ ہے جس میں قرآن اتارا گیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ روزہ اور قرآن کے درمیان گہرا تعلق ہے، وہ تعلق یہ ہے کہ قرآن اپنے ماننے والوں کو ایک مشن دیتا ہے، دعوت الی اللہ کا مشن ۔ اس دعوتی مشن کو کامیابی کے ساتھ چلانے کے لیے صبر و تحمل کی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page