روزہ: اسلام کا ایک رُکن
Urdu book, p. 3
By Maulana Wahiduddin Khan
لازمی طور پر ضرورت ہے۔ روزہ اسی صبر کی تربیت کا ذریعہ ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ رمضان کا مہینہ صبر کا مہینہ ہے (ھوشہر الصبر، البیہقی، جلد 2، صفحہ 305)۔ دعوت الی اللہ کا مشن صرف وہی لوگ کامیابی کے ساتھ چلا سکتے ہیں جو اس کو ایک طرفہ صبر کے ساتھ چلانے کے لیے تیار ہوں ۔ روزہ آدمی کے اندر اسی ایک طرفہ صبر کی صلاحیت پیدا کرتا ہے۔ اس طرح، روزے کا تربیتی مہینہ آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ صبر و تحمل کے ساتھ دعوت الی اللہ کے مشن کو چلائے اور اس کو کامیابی کی منزل تک پہنچا سکے۔ روزہ: اسلام کا ایک رُکن حضرت عبد اللہ بن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بُنی الإسلام على خمس: شهادة أن لا إله إلا الله وأن محمداً عبدُه ورسوله، وإقام الصلاة وإيتاء الزكاة والحج وصوم رمضان (صحیح البخاری، کتاب الإيمان، باب: الإيمان ) یعنی پانچ چیزیں اسلام کی بنیاد ہیں— اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں اور یہ کہ محمد، اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، اور نماز قائم کرنا، اور زکات ادا کرنا، اور حج کرنا، اور رمضان کے روزے رکھنا۔ اس حدیث میں پانچ چیزوں کو اسلام کی بنیاد قرار دیا گیا ہے۔ پہلی چیز کلمۂ شہادت ہے جو اسلام کے اعتقادی رکن کی حیثیت رکھتا ہے۔ دوسری چیز ہے، نماز کو قائم کرنا۔ تیسری چیز ہے، اپنے مال میں سے زکات دینا۔ چوتھی چیز ہے، حج ادا کرنا۔ اور پانچویں چیز ہے، رمضان کے مہینے کے روزے رکھنا۔ اسلام کو اگر ایک عمارت سے تشبیہ دی جائے تو اس عمارت کی بنیاد پانچ چیزوں پر قائم ہے۔ ان میں سے ایک روزہ ہے۔ روزے کی حقیقت صبر ہے۔ روزے کا مقصد آدمی کے اندر صبر و تحمل کی استعداد پیدا کرنا ہے۔ صبر اسلامی زندگی کی لازمی ضرورت ہے۔ صبر کے بغیر کوئی شخص اسلام پر قائم نہیں رہ سکتا۔ نفس کی خواہشوں کے مقابلے میں صبر، شیطان کے بہکاوے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader