Urdu book · صومِ رمضان

صومِ رمضان

Urdu book, p. 29

By Maulana Wahiduddin Khan

(الترمذی، کتاب الصوم، باب الإفطار متعمداً) یعنی جو شخص رمضان کے دنوں میں کسی دن روزہ ترک کردے، جب کہ اُس کے لیے کوئی شرعی عذر اور بیماری نہ ہو، تو اس کے بعد خواہ وہ ساری عمر روزے رکھے، وہ اس کے لیے رمضان میں چھوڑے ہوئے روزے کا بدل نہیں ہوسکتا۔ رمضان کے مہینے میں روزہ رکھنے کی اہمیت یہ ہے کہ خود اللہ تعالیٰ نے صراحت کے ساتھ اُس کا حکم دیا ہے۔ ایسی حالت میں رمضان کے کسی ایک روزے کو بھی قصداً چھوڑنا اپنی نوعیت کے اعتبار سے نہایت سنگین جرم کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کے بعد آدمی اگر ساری عمر روزہ رکھے، تو وہ اس کے اپنے فیصلے کے تحت ہوگا، نہ کہ براہِ راست حکم خداوندی کی تعمیل میں۔ اور بلاشبہہ کوئی بھی دوسرا عمل، خدا کے حکم کی قصد اًخلاف ورزی کی تلافی نہیں بن سکتا۔ اس دنیا میں پانی کا جو ذخیرہ ہے، اس کی ایک ایک بوند کا مالک خدا ہے۔ اس دنیا میں مختلف قسم کی جو غذائیں ہیں، ان کا غیر مشترک مالک بھی صرف ایک خدا ہے۔ اس قسم کی تمام چیزیں جو دنیا میں موجود ہیں، ان کو پیدا کرنے والا بھی خدا ہے اور یہ بھی خدا وند ذوالجلال ہی ہے جو یہ تمام چیزیں انسان کو عطا کرتا ہے۔ ایسی حالت میں جب خدا خود یہ حکم دے کہ فلاں مہینے کے دنوں میں تم میرا پانی اور میری پیدا کی ہوئی غذائیں استعمال نہیں کرو گے، تو یہ انسان کی انسانیت کے سرتا سر خلاف ہے کہ وہ رزق کے خالق و مالک کی ممانعت کے باوجود اس کے دیے ہوئے رزق کا ایک دانہ بھی استعمال کرے۔ حکم خداوندی کی ایسی خلاف ورزی کے بعد انسان اپنے آپ کو اس دنیا میں بے جگہ بنالیتا ہے۔ اس کے بعد وہ انسان کی سطح سے گر کر غیر انسان کی سطح پر آجاتا ہے۔ اسپرٹ، یا کلنکل مسائل حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إذا سمع الندای أحدکم والإنایٔ علی یدہ، فلا یضعه حتی یقضي حاجته منه (مسند احمد، جلد 5،

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page