صومِ رمضان
Urdu book, p. 30
By Maulana Wahiduddin Khan
صفحہ 431) یعنی تم میں سے جب کوئی (روزے دار) فجر کی اذان کی آواز سنے اور کھانے کا برتن اُس کے ہاتھ میں ہو، تو وہ اُس وقت تک اس کو اپنے منہ سے نہ ہٹائے، جب تک کہ وہ اپنی حاجت پوری نہ کر لے۔ اس حدیث رسول کا مطلب یہ ہے کہ ایک شخص سحری کر رہا ہے۔ ابھی وہ اپنی سحری پوری نہیں کر سکا تھا کہ اس کو فجر کی اذان کی آواز سنائی دی۔ اگر کبھی ایسا ہو جائے تو وہ ایسا نہ کرے کہ وہ فوراً کھانا یا پینا چھوڑ دے، بلکہ اس کو چاہیے کہ وہ اپنی سحری کو پورا کر لے۔ اور پھر فجر کی نماز کے لیے مسجد میں جائے۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ روزہ کسی ٹیکنکل (technical) عمل کا نام نہیں ہے۔ روزے میں ٹیکنکل مسائل کی حیثیت ثانوی (secondary) ہے۔ روزے میں اصل اہمیت اس کی روح یا اس کی اسپرٹ کی ہے۔ جس عمل میں روح پر زور دیا جائے، اُس میں ٹیکنکل مسائل کا درجہ وہی ہو جائے گا جس کی ایک علامتی مثال مذکورہ حدیث میں نظر آتی ہے۔ روزہ جیسے زندہ عمل میں ٹیکنکل مسائل پر زور دینا، ہمیشہ اس قیمت پر ہوتا ہے کہ اس کی اسپرٹ کا پہلو مجروح ہو جائے۔ اِسی معاملے کو واضح کرنے کے لیے پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے مذکورہ بات ارشاد فرمائی۔ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ تمھارا سارا دھیان روزے کی اسپرٹ پر ہونا چاہیے، نہ کہ اس کے ٹیکنکل مسائل پر۔ اسلامی عبادات میں سب سے زیادہ اُس کی اسپرٹ کی اہمیت ہوتی ہے، نہ کہ اس کے ٹیکنکل مسائل کی۔ روزہ اگر ٹیکنکل نوعیت کا کوئی عمل ہوتا، تو اذان کی آواز سنتے ہی کھانے پینے کو فوراً چھوڑ دینا لازم ہو جاتا۔ مگر اس معاملے میں رخصت دینے سے معلوم ہوا کہ عبادت میں اس کی روح، اس کا اصل حصہ ہے اور اس کا فارم اس کا اضافی حصہ۔ روزہ اور قیامِ لیل حدیث میں بتایا گیا ہے کہ رمضان کے مہینے میں قیامِ لیل ایک اہم عبادت ہے (من قام

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader