روزہ اور اعتکاف
Urdu book, p. 36
By Maulana Wahiduddin Khan
روزہ اور اعتکاف رمضان کے مہینے میں، عام طور پر آخری عشرہ میں، مسجد کے اندر اعتکاف کیا جاتا ہے۔ جو لوگ اعتکاف کرتے ہیں، وہ ان دنوں میں دوسرے تعلقات کو منقطع کر کے مسجد میں بیٹھ جاتے ہیں۔ ناگزیر انسانی ضرورت کے سوا، وہ کسی اور مقصد سے باہر نہیں نکلتے۔ مسجد میں خلوت نشیں ہو کر، وہ اپنا زیادہ وقت عبادت اور ذکر اور دعا اور تلاوتِ قرآن میں گزارتے ہیں۔ اعتکاف کا لفظی مطلب ـــ خلوت نشینی (seclusion) ہے۔ یہ اعتکاف کس لیے کیا جاتا ہے ۔ حدیث میں اعتکاف کرنے والے کے بارے میں آیا ہے کہ: ہو یعتکف الذّنوب (مشکاۃ المصابیح، رقم: 2108) یعنی وہ گناہوں سے اعتکاف کرتا ہے۔ گناہوں سے اعتکاف کرنے کا مطلب کیا ہے۔ اس کی وضاحت کرتے ہوئے محدث ناصر الدین الالبانی (وفات: 1999) نے لکھا ہے کہ: أی یحبس عن الذنوب (مشکاۃ، جلد 1، صفحہ 650) یعنی وہ اپنے آپ کو گناہوں سے روک لیتا ہے۔ اعتکاف کا مطلب سادہ طور پر صرف گناہ سے رکنا نہیں ہے، بلکہ روزے کی اسپرٹ کو بھر پور طور پر اپنانے کے لیے اپنے آپ کو خلوت نشیں لینا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ اعتکاف کا مطلب ہے— اپنے آپ کو مواقعِ گناہ سے ہٹا کر پوری طرح عملِ خیر میں مشغول کر لینا۔ اس پر غور کرتے ہوئے یہ سمجھ میں آتا ہے کہ اعتکاف کا اصل مقصد اپنے آپ کو ڈسٹریکشن (distraction) سے بچانا ہے۔ گناہ خود بھی ایک قسم کا ڈسٹریکشن ہے۔ فطرت کی صراطِ مستقیم سے ہٹنا، آدمی کو گناہ کی طرف لے جاتا ہے۔ اعتکاف ایک خصوصی تدبیر ہے جس کے ذریعہ آدمی چند دنوں کے لیے مجبوری کی حالت پیدا کر کے اپنے آپ کو ڈسٹریکشن سے بچاتا ہے، تاکہ وہ بعد کے دنوں میں اختیاریانہ طور پر اپنے آپ کو ہر قسم کے ڈسٹریکشن سے بچا کر صراط مستقیم پر قائم رہنے والا انسان بنا سکے۔ ترکِ اختیار کا یہ معاملہ پوری زندگی سے تعلق رکھتا ہے۔ اس طریقے کو اختیار کیے بغیر، کوئی شخص

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader