روزہ اور اعتکاف
Urdu book, p. 37
By Maulana Wahiduddin Khan
اپنی زندگی کو اسلامی زندگی نہیں بنا سکتا۔ روزے کے ذریعے آدمی کے اندر یہی اسپرٹ پیدا کرنا مقصود ہے۔ اعتکاف بظاہر اپنے آپ کو اللہ کی عبادت کے لیے خاص کرنے کا نام ہے۔ لیکن اسلام میں عبادت اور رہبانیت (Monasticism) میں فرق کیا گیا ہے۔ اسلام کے مطابق، رہبانیت ایک قسم کا غلو ہے اور غلو اسلام میں جائز نہیں (لا غلو فی الاسلام)۔ ایک صحابی رسول کا حسب ذیل واقعہ اس معاملے میں شریعت کی صحیح روح کو بتاتا ہے: طبرانی اور بیہقی نے حضرت عبد اللہ بن عباس کا ایک واقعہ نقل کیا ہے۔ روایت کے مطابق، حضرت عبد اللہ بن عباس، مدینہ کی مسجد نبوی میں اعتکاف کی حالت میں تھے۔ اُن کے پاس ایک آدمی آیا اور سلام کر کے بیٹھ گیا۔ عبد اللہ بن عباس نے کہا: تم مجھ کو افسردہ اور غمگین دکھائی دیتے ہو۔ اُس آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول کے چچازاد بھائی، میرے اوپر فلاں شخص کا حق ہے، اور اِس صاحب قبر (یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) کی عزت کی قسم، میں اُس کی ادائیگی پر قادر نہیں۔ عبد اللہ بن عباس نے کہا: کیا میں تمھارے بارے میں اُس آدمی سے بات کروں (أفلا أكلمه فيك)۔ اُس شخص نے کہا: ہاں، اگر آپ پسند فرمائیں۔ اِس کے بعد عبد اللہ بن عباس نے اپنے جوتے پہنے اور مسجد سے باہر نکل کر روانہ ہو گئے۔ اُس آدمی نے کہا: شاید آپ بھول گئے کہ آپ اِس وقت حالت اعتکاف میں ہیں۔ عبد اللہ بن عباس نے کہا: نہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے (اور یہ کہتے ہوئے عبد اللہ بن عباس کی آنکھوں میں آنسو آگئے) کہ: من مشى في حاجة أخيه وبلغ فيها، كان خيراً له من اعتکاف عشر سنين (الترغيب والترهيب، كتاب الصوم، جلد 2، صفحہ 96) یعنی جو شخص اپنے بھائی کی حاجت براری کے لیے چلا اور اُس نے اُس کے لیے کوشش کی، تو یہ اُس کے لیے دس سال کے اعتکاف سے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader