Urdu book · صومِ رمضان

صومِ رمضان

Urdu book, p. 39

By Maulana Wahiduddin Khan

عبادت کو صرف اس کے فارم کی سطح پر پایا ہے، نہ کہ اسپرت کی سطح پر۔ عبادت کا فارم چوں کہ ایک معلوم چیز ہوتی ہے، اس لیے اس کے فارم کے بارے میں ایسا کہا جا سکتا ہے۔ لیکن عبادت کی روح ایک داخلی چیز ہے، اس کا حقیقی علم اللہ کے سوا کسی اور کو نہیں۔ اس لیے جس شخص نے عبادت کو اس کی اسپرت کی سطح پایا ہو، وہ ہمیشہ اپنی عبادت کے بارے میں اندیشے میں مبتلا رہے گا۔ اس کو یہ احساس ہوگا کہ معلوم نہیں، خدا کے نزدیک میری عبادت مطلوب عبادت تھی یا نہیں۔ حالتِ محرومی کی دریافت حضرت ابوذر غفاری سے ایک طویل روایت نقل ہوئی ہے۔ یہ حدیث قدسی ہے۔ اس حدیث کا ایک حصہ یہ ہے: یا عبادی، کلکم جائع الا من أطعمته، فاستطعتموني أُطْعِمْکُم (صحیح مسلم، کتاب البر، باب تحریم الظلم) یعنی اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے میرے بندو، تم میں سے ہر شخص بھوکا ہے، سوا اُس شخص کے جس کو میں کھلاؤں۔ پس تم مجھ سے کھانا طلب کرو، میں تم کو کھانا دوں گا۔ اس حدیث میں جو بات کہی گئی ہے، وہ عین وہی بات ہے جو روزے سے مطلوب ہے۔ روزے کا مقصد آدمی کے اندر یہ زندہ شعور پیدا کرنا ہے کہ رزق کا دینے والا صرف خدا ہے، خدا اگر رزق نہ دے تو کہیں اور سے انسان کو رزق ملنے والا نہیں۔ روزے میں یہ ہوتا ہے کہ آدمی صبح سے شام تک اپنے آپ کو کھانے سے دور رکھتا ہے۔ اس طرح، وہ اس حقیقت کا تجربہ کرتا ہے کہ وہ خود رزق کا مالک نہیں۔ اس کے بعد شام کو جب اس کے سامنے کھانا آتا ہے، تو وہ اس کو خدا کی طرف سے دیا ہوا رزق سمجھ کر کھاتا ہے۔ اُس وقت وہ یہ کہہ اٹھتا ہے کہ۔ خدایا، میں بھوکا تھا، تیرا شکر کہ تو نے مجھے کھانا دیا اور اس طرح اپنی رحمت خاص سے میری محرومی کی تلافی کا انتظام فرمايا۔ رمضان کے مہینے میں دن کا وقت آدمی کو اُس کے محروم ہونے کا تجربہ کرا تا ہے، اور رات کا وقت اللہ تعالیٰ کے رازق ہونے کا تجربہ۔ اس دنیا کا نظام اس طرح بنا ہے کہ بظاہر یہاں ایک

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page