Urdu book · صومِ رمضان

صومِ رمضان

Urdu book, p. 38

By Maulana Wahiduddin Khan

بہتر ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس کے اس واقعے سے اسلامی عبادت اور اعتکاف کی روح معلوم ہوتی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بوقتِ ضرورت عبادت کے فارم میں ایڈجسٹ منٹ کیا جائے گا، لیکن عبادت کی روح کو بہ حال میں باقی رکھا جائے گا۔ عبادت کا اظہار حضرت نُفیع بن حارث ابوبکرہ الثقفی سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لا یقولنّ أحدکم إنّی صمتُ رمضان کلّہ، وقمتہ کلّہ (سنن أبی داؤد، کتاب الصوم) یعنی تم میں سے کوئی شخص ہر گز یہ نہ کہے کہ میں نے ماہِ رمضان کے پورے روزے رکھے، اور میں نے رمضان کی تمام راتوں میں قیام کیا۔ اس حدیث کو بیان کرنے کے بعد راوی نے کہا: لا أدری، أخْشي التزکیة علی أمّته، أو قال: لا بُدّ من نومٍ أو غفلة (مسند احمد، جلد 5، صفحہ 48) یعنی میں نہیں جانتا کہ آپ نے ایسا اپنی امت پر اُس کے اظہارِ تزکیہ کرنے کے خوف سے کہا، یا نیند یا غفلت کے خوف سے۔ اس حدیث کا مطلب یہ نہیں ہے کہ رمضان میں تمام روزے رکھنا آدمی کے لیے ضروری نہیں ہے، یا قیامِ لیل ضروری نہیں۔ اس حدیث میں فوکس حقیقتاً خود صيام اور قیام پر نہیں ہے، بلکہ لوگوں کے سامنے اپنے صیام اور قیام کا اظہار کرنے پر ہے۔ عبادت کے بارے میں اس قسم کا اظہار، اخلاص کی اسپرٹ کے خلاف ہے۔ آدمی جب خدا وندِ ذوالجلال کی عبادت کرتا ہے تو اس کے اندر عجز کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ عظمتِ خداوندی کے احساس کی بنا پر اس کا یہ حال ہوتا ہے کہ سب کچھ کرنے کے بعد بھی وہ یہ سمجھتا ہے کہ میں نے کچھ نہیں کیا۔ اس کا یہ احساس پورے معنوں میں حقیقی ہوتا ہے، نہ کہ مصنوعی۔ ایک آدمی اگر لوگوں کے سامنے یہ کہے کہ ــ الحمد للہ میرے تمام روزے پورے ہوئے، ماشاء اللہ میں نے رمضان کی تمام راتوں میں قیام کیا، تو یہ اس بات کا ثبوت ہوگا کہ کہنے والے نے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page