Urdu book · صومِ رمضان

صومِ رمضان

Urdu book, p. 41

By Maulana Wahiduddin Khan

سچے مومن کے لیے کامل معنوں میں ایک روحانی خوراک بنا دیتا ہے، ایک ایسی خوراک جو اُس کے لیے رازقِ حقیقی کی دریافت کے ہم معنی بن جائے، جو اُس کو سچائی کے اعلیٰ مقام پر کھڑا کر دے۔ جو آدمی حساسیت کی سطح پر غذا کی اہمیت کو در یافت کرے، اُسی کا روزہ روزہ ہے۔ اس کے بغیر روزہ ایک حیوانی عمل ہے، نہ کہ حقیقی معنوں میں انسانی عمل۔ اللہ کے زیرِ حکم ہونے کا تجربہ روزہ آدمی کو یہ تجربہ کراتا ہے کہ وہ خدائے برتر کے ماتحت ہے۔ روزہ کے دوران آدمی یہ کرتا ہے کہ وہ اپنی خواہش کے خلاف، اللہ کے حکم کو اپنے اوپر نافذ کرتا ہے۔ اس طرح وہ شعوری طور پر اس حقیقت کا تجربہ کرتا ہے کہ ـــــ میں خداوند ذوالجلال کے ماتحت ہوں۔ رمضان کے مہینے میں روزہ رکھنے کا یہ سب سے بڑا تجربہ ہے۔ اس طرح گویا کہ ایک بھولا ہوا انسان اپنے رب کے بارے میں زندہ شعور حاصل کرتا ہے۔ وہ لمبی غفلت کے بعد اپنے خالق اور مالک کو در یافت کرتا ہے۔ وہ اس حقیقت کو اپنے ذہن میں تازہ کرتا ہے کہ یہاں ایک عظیم خدا ہے جو میرا معبود ہے اور میں اس کا ایک عاجز بندہ ہوں۔ میں اس دنیا میں آزاد نہیں ہوں، بلکہ میں ایک عظیم ہستی کے حکم کے ماتحت ہوں۔ مجھے اس عظیم ہستی کی اطاعت کرنا ہے، حتیٰ کہ اس وقت بھی جب کہ اس کی اطاعت کے لئے اپنی خواہشوں کو دبانا پڑے، اپنی آزادی کو ختم کرنا پڑے، اختیار رکھتے ہوئے خود اپنے ارادے سے اپنے آپ کو محکوم بنا لینا پڑے یہ رمضان کے روزہ کا سب سے بڑا پہلو ہے اور اسی کو قرآن میں تقویٰ کہا گیا ہے۔ تقویٰ کا مطلب خدا شناسی (God-consciousness) ہے اور روزہ اس خدا شناسی کو بیدار کرنے کا ایک مؤثر ذریعہ۔ روزے کا عمل جسمانی سطح پر کیا جاتا ہے، مگر اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ ذہنی اور روحانی سطح پر کیا جانے والا ایک عمل ہے۔ روزہ آدمی کے شعور کو تجربہ بناتا ہے۔ روزہ آدمی کے اندر گہرے احساس کو بیدار کرتا ہے۔ روزہ آدمی کے اندر چھپے ہوئے ربانی جذبات کو متحرک کرتا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page