Urdu book · صومِ رمضان

صومِ رمضان

Urdu book, p. 42

By Maulana Wahiduddin Khan

ہے۔ روزہ آدمی کی سوئی ہوئی روح کو جگا کر اس کو خدا سے قربت کا تجربہ کراتا ہے۔ روزہ قادرِ مطلق کے مقابلے میں، اپنے عاجز مطلق ہونے کے واقعاتی ادراک کا سبب بنتا ہے۔ روزہ، آدمی کے قلب و دماغ کی تطہیر کا ذریعہ ہے۔ روزہ متقیانہ زندگی کا ایک سالانہ ریہرسل (rehearsal) ہے۔ روزہ ایک تطہیری کورس ہے، جس سے گزر کر آدمی دوبارہ اُس پاکیزہ فطری حالت پر پہنچ جاتا ہے جب کہ وہ اپنی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا تھا۔ جذباتِ شکر کی بیداری حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ رکھ کر شام کو پانی سے افطار کیا تو آپ کی زبان سے یہ الفاظ نکلے : ذهب الظماء وابتلت العروق وثبت الأجر إن شاء الله (سنن أبى داؤد، كتاب الصيام، باب القول عند الإفطار ) یعنی پیاس چلی گئی اور رگیں تر ہو گئیں اور روزے کا اجر ان شاء اللہ ثابت ہو گیا۔ پانی ایک غیر معمولی قسم کی نعمت ہے۔ پانی پر انسانی زندگی کا انحصار ہے۔ پانی نہیں تو زندگی نہیں ۔ مگر عام حالات میں پانی کی اس خصوصی نعمت کا احساس نہیں ہوتا۔ مگر ایک آدمی جب روزہ رکھ کر سارے دن پانی کا استعمال نہ کرے اور اُس پر پیاس کا تجربہ گزرے، اُس وقت جب آدمی پانی پیتا ہے تو اس کو محسوس ہوتا ہے کہ پانی کیسی عجیب نعمت ہے۔ اُس وقت آدمی کے تمام احساسات جاگ اٹھتے ہیں۔ وہ سوچتا ہے کہ کس طرح دو گیسوں کے ملنے سے سیال (liquid) پانی بن گیا۔ اتھاہ مقدار میں پانی کے ذخیرے زمین کے اوپر جمع ہو گئے، پھر پانی سے زندگی کی تمام ضرورتیں پوری ہو گئیں۔ انھیں میں سے ایک یہ ہے کہ پانی آدمی کی پیاس کو بجھا کر اس کے لیے زندگی کا سبب بنتا ہے۔ یہ احساسات جب جاگتے ہیں تو نہ صرف یہ ہوتا ہے کہ آدمی کی پیاس بجھتی ہے، بلکہ اسی کے ساتھ شکرِ خداوندی کا ایک دریا آدمی کے اندر رواں ہو جاتا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page