Urdu book · صومِ رمضان

صومِ رمضان

Urdu book, p. 47

By Maulana Wahiduddin Khan

کے ساتھ روزہ رکھیں، مہینے کی آخری رات میں ان کے عمل کا پورا اجران کے ریکارڈ میں لکھ دیا جاتا ہے ۔ رمضان کے مہینے کی اس آخری رات کو دوسری حدیث میں 'لیلۃ الجائزة‘ (البيهقی) کہا گیا ہے، یعنی انعام کی رات ۔ ہر نیک عمل پر اللہ اپنے بندوں کو انعام دیتا ہے۔ رمضان کی عبادت کی اہمیت کی بنا پر اس حدیث میں اس کے انعام کا ذکر خصوصی انداز میں کیا گیا ۔ عام طور پر ایسا ہوتا ہے کہ جب رمضان کا مہینہ ختم ہو جاتا ہے، تو عید سے پہلے کی رات کو لوگ غفلت میں یا تماشے میں گزارتے ہیں۔ وہ اس میں شاپنگ کی دھوم مچاتے ہیں۔ یہ حدیث اس قسم کی غفلت کے لیے ایک انتباہ (warning) کی حیثیت رکھتی ہے۔ انعام کی اس رات کا بہتر استعمال یہ ہے کہ اُس رات کو زیادہ سے زیادہ دعا اور عبادت میں گزارا جائے، اور پورے مہینے کا محاسبہ کیا جائے، اور نئے سال کی دوبارہ منصوبہ بندی کی جائے۔ اس رات کو مسرفانہ شاپنگ چیزوں میں گزارنا، اس بابرکت موقع کا ضیاع بھی ہے اور اُس کی ناقدری بھی ۔ حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ رمضان کے مہینے کو اُس کی مطلوب اسپرٹ کے ساتھ گزاریں، وہ کبھی اس کا تحمّل نہیں کر سکتے کہ رمضان کی آخری رات کو وہ غفلت اور تماشے میں گزار دیں۔ ان کے لیے مہینے کی آخری رات دعا اور عبادت کی رات ہوگی ، نہ کہ غفلت کی رات ۔ عیدالفطر کا دن رمضان اور روزہ اور عیدالفطر کے بارے میں حضرت انس بن مالک سے ایک طویل روایت نقل ہوئی ہے۔ اُس روایت کا ایک حصہ یہ ہے : ”... فاذا كان يومُ عيدِهم، يعني يومَ فطرِهم، باهی بهم ملائكتَه، فقال: ملائكتي، ما جزائُ أجيرٍ وفّي عملَهُ۔ قالوا: ربّنا، جزائه أن يُوفّى أجرَهُ۔ قال: ملائكتي، عبيدي وإمائي قضوا فريضتي عليهم، ثم خرجوا يَعرُجونَ إلى الدُّعاء، وعزّتي وجلالي وكرمي وعُلُوّي وارتفاع مكاني لأجيبنّهم۔ فيقول: ارجعوا فقد

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page