Urdu book · صومِ رمضان

صومِ رمضان

Urdu book, p. 46

By Maulana Wahiduddin Khan

رمضان کے مہینے میں اگر کوئی شخص سفر کرے، یا بیمار ہو جائے تو وہ رخصت کے طور پر اُن دنوں میں روزہ ترک کر سکتا ہے۔ لیکن اُس کو رمضان کے بعد چھوٹے ہوئے دنوں کے بقدر روزہ رکھ کر اُس کی تکمیل کرنی ہوگی۔ البتہ اگر کوئی شخص بڑھاپے، یا کسی طبی سبب سے مستقل طور پر معذور ہو جائے اور روزہ رکھنا اُس کے لیے ممکن نہ رہے تو وہ روزہ ترک کر دے اور کفارہ کے طور پر مساکین کو کھانا کھلا دے، یعنی ایک روزے کے بدلے ایک مسکین کے دو وقت کے کھانے کا انتظام کرنا۔ شریعت، آدمی کے اوپر کوئی غیر فطری پابندی عائد نہیں کرتی۔ روزے میں دن کے اوقات میں کھانے پینے اور دیگر ممنوعات کے باوجود، رات کے اوقات میں اُس کی اجازت، سحری اور افطار کا وقت جاننے کے لیے کیلنڈر کا پابند کرنے کے بجائے، عام مشاہدے کو بنیاد قرار دینا، اِسی قسم کی چیزیں ہیں۔ جزئی تفصیلات میں بندوں کو گنجائش دیتے ہوئے، اللہ تعالیٰ نے عمومی حدیں واضح فرما دی ہیں۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ اِن مقرر حدوں کا پوری طرح پابند رہے اور تفصیلی جزئیات میں وہ اْس روش کو اختیار کرے جو تقویٰ کی اسپرٹ کے مطابق ہے۔ انعام کی رات حضرت ابو ہریرہ کی ایک طویل روایت حدیث کی کتابوں میں آئی ہے۔ اِس روایت کا ایک حصہ یہ ہے: يُغفر لهم في آخر ليلة من رمضان - قيل: يا رسول الله، أهى ليلة القدر - قال: لا، ولكن العامل إنما يوفى أجره إذا قضى عمله (مسند احمد، جلد 2، صفحه 292) یعنی رمضان کی آخری رات میں روزے دار بندوں اور بندیوں کی مغفرت کر دی جاتی ہے۔ کہا گیا کہ اے اللہ کے رسول، کیا اس رات سے مراد شبِ قدر ہے۔ آپ نے فرمایا کہ نہیں، بلکہ عمل کرنے والا جب عمل کرتا ہے، تو عمل کے پورا ہونے کے بعد اُس کو اُس کا پورا اجر دے دیا جاتا ہے۔ اِس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اُمّتِ محمدی کے وہ افراد جو روزے کی مطلوب اسپرٹ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page