صومِ رمضان
Urdu book, p. 5
By Maulana Wahiduddin Khan
کے بعد تم زیادہ بہتر طور پر خار جی سرگرمی کے قابل بن جاؤ۔ چند دنوں کے لئے تم اپنے بولنے پر پابندی لگا لو، تا کہ اس کے بعد تم زیادہ بہتر بولنے والے بن سکو۔ چند دنوں کے لیے تم اپنے مقام پر ٹھہر جاؤ، تا کہ اس کے بعد تم کامیاب پیش قدمی کے قابل بن سکو۔ روزے کا مہینہ مومن کے لیے تیاری کا مہینہ ہے—اپنی سوچ کے معیار کو بلند کرنا، اپنی عبادت میں تقویٰ کی اسپرٹ بڑھانا، اپنی روحانیت میں اضافہ کر کے زیادہ سے زیادہ اللہ کی قربت حاصل کرنا، بھوک اور سیری کا تجربہ کر کے اپنے اندر شکر کا احساس جگانا، مادی مشغولیت کو کم کر کے آخرت کی طرف زیادہ سے زیادہ متوجہ ہونا، خارجی سفر کو روک کر داخلی سفر کی طرف رواں ہونا، ایک مہینے کے تربیتی کورس سے گزر کر پورے ایک سال کے لیے شکر و تقویٰ کی غذا حاصل کر لینا، وغیرہ۔ یہی روزے کا مقصد ہے اور یہی روزے کی مقبولیت کا اصل معیار بھی۔ ایمان اور احتساب حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مَنْ صَامَ رمضان إيماناً واحتساباً غُفِرَ له ما تقدم من ذنبه، ومن قام رمضان إيماناً واحتساباً غُفِرَ له ما تقدم من ذنبه۔ ومن قام ليلة القدر إيماناً واحتساباً غفر له ما تقدم من ذنبه (صحیح البخاری، کتاب الصوم، باب: من صام رمضان) یعنی جس نے ایمان اور احتساب کے ساتھ رمضان کے روزے رکھے، اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔ جس نے رمضان کے مہینے میں ایمان اور احتساب کے ساتھ قیام لیل کیا، اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔ اور جس نے شب قدر میں ایمان اور احتساب کے ساتھ قیام کیا، اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔ اس حدیث میں رمضان کی تین عبادتوں کا ذکر ہے۔ تینوں کے ساتھ حدیث میں 'ایمان' اور 'احتساب' کے الفاظ آئے ہیں۔ ایمان سے مراد اللہ پر عارفانہ یقین ہے۔ اور احتساب سے مراد خالص رضاء الہی کے حصول اور طلب (anticipation of God's reward)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader