Urdu book · صومِ رمضان

صومِ رمضان

Urdu book, p. 4

By Maulana Wahiduddin Khan

کے مقابلے میں صبر، لوگوں کی ایذاؤں کے مقابلے میں صبر، جان و مال کے نقصان کے مقابلے میں صبر، ناخوش گوار تجربات کے مقابلے میں صبر، محرومی کے واقعات پر صبر، مصیبتوں کے مقابلے میں صبر، وغیرہ۔ موجودہ دنیا میں ہر آدمی کو بار بار منفی تجربات پیش آتے ہیں ۔ ایسی حالت میں مثبت نفسیات کے ساتھ دنیا میں رہنا صرف اُس انسان کے لیے ممکن ہے جو صبر کے ساتھ دنیا میں رہنے کے لیے تیار ہو۔ روزہ اِسی صبر کی تربیت ہے۔ سچا روزہ آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ ناخوش گوار واقعات سے غیر متاثرہ کر زندگی گزارے، وہ منفی تجربات کے باوجود مثبت سوچ (positive thinking) پر قائم رہے۔ صبر آدمی کو حوصلہ مند بناتا ہے۔ اور روزہ اِسی قسم کی حوصلہ مندانہ زندگی کی تربیت ہے۔ روزہ کی حقیقت روزہ کے لیے عربی لفظ صوم ہے۔ صوم کے معنی ہیں، رُکنا (Abstinance)۔ زندگی میں صرف اقدام کی اہمیت نہیں ہوتی، بلکہ رُکنا بھی زندگی میں ایک بے حد اہم پالیسی کی حیثیت رکھتا ہے۔ اقدام اگر خارجی توسیع کی علامت ہے تو رُکنا داخلی استحکام کی علامت ۔ اور زندگی کی حقیقی تعمیر کے لیے بلاشبہہ دونوں ہی یکساں طور پر ضروری ہیں۔ مشہور صحابی خالد بن الولید کو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے سیف اللہ کا لقب عطا کیا تھا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ پیغمبر اسلام نے خالد بن الولید کو یہ لقب کسی اقدام یا جنگی پیش قدمی پر نہیں دیا تھا، بلکہ آپ نے سیف اللہ کا لقب اُنھیں اُس وقت دیا تھا جب کہ غزوۂ مُوتہ (8 ہجری) کے موقع پر انھوں نے یک طرفہ طور پر اپنی تلوار میان میں رکھ لی تھی اور تمام صحابہ کو جنگ کے میدان سے ہٹا کر مدینہ واپس آگئے تھے۔ روزہ اس بات کا سبق ہے کہ تم چند دنوں کے لیے کھانا چھوڑ دو، تا کہ تم بقیہ دنوں میں زیادہ اچھے کھانے والے بنو۔ تم چند دنوں کے لیے اپنی سرگرمیوں کو داخلی تعمیر کے محاذ پر لگادو، تا کہ اس

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page