دیباچہ
Urdu book, p. 112
By Maulana Wahiduddin Khan
جواب مسجد ابدی طور پر مسجد ہے۔ مسجد حکمًا اللہ کی ملکیت ہے نہ کہ مسلمانوں کی ملکیت۔ اس لئے مسجد کو کسی بھی مسلم یا غیر مسلم کے حوالے نہیں کیا جا سکتا، کسی بھی شخص کو اس قسم کا حق حاصل نہیں۔ میرے بارے میں جو لوگ مذکورہ قسم کی بات کہتے ہیں، وہ میرے اوپر ایک بے بنیاد الزام لگاتے ہیں۔ کیوں کہ میں نے نہ کبھی ایسا کہا اور نہ کبھی ایسا لکھا، میری کسی بھی تحریر سے اس کا ثبوت پیش نہیں کیا جا سکتا۔ اس معاملے کی حقیقت کو سمجھنے کے لئے عقل عام’’کامن سنس‘‘ ہی کافی ہے۔ اس معاملہ میں کامن سنس کو استعمال کر کے ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ میں ہرگز ایسا نہیں کہہ سکتا۔ جب مسجد اللہ کی ملکیت ہے، وہ کسی انسان کی ملکیت نہیں، ایسی حالت میں اگر میں ایسا کہوں کہ مسلمان بابری مسجد کو ہندوؤں کے حوالے کر دیں تو یہ میرے لئے خود اپنی حیثیت عرفی (reputation) کی نفی کے ہم معنی ہوگا اس کا مطلب یہ ہوگا کہ میں مسجد کے معاملہ میں شرعی حکم کو نہیں جانتا اور یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ کوئی بھی شخص اپنی حیثیت عرفی کی نفی کا متحمل نہیں کر سکتا، پھر میں کیوں کرایا کروں گا۔ میں اللہ کے فضل و توفیق سے تقریباً پچاس سال سے قرآن و حدیث کی خدمت کر رہا ہوں ۔ میرے اس کام کی اہمیت اسی لئے ہے کہ لوگ مجھ کو عالم دین سمجھتے ہیں۔ ایسی حالت میں میں خود اپنے ساتھ دشمنی کروں گا اگر میں مسجد کے بارے میں مذکورہ قسم کا بیان دوں۔ کیوں کہ اس کے بعد لوگوں کی نظر میں میرا عالم دین ہونا مشتبہ ہو جائے گا اور اسی کے ساتھ میرا پورا دینی مشن بھی۔ اتنے نازک معاملے میں میں اتنی بڑی نادانی کیسے کر سکتا ہوں۔ بابری مسجد کے معاملہ میں میری رائے اول دن سے اور اب تک ایک ہی رہی ہے۔ اس کی تفصیل الرسالہ کے شماروں میں دیکھی جا سکتی ہے۔ الرسالہ کے یہ مضامین یکجائی طور پر ایک کتاب میں شائع کئے جا چکے ہیں جس کا نام قیادت نامہ ہے۔ تفصیل کے طالب اس کتاب کو دیکھ سکتے ہیں۔ خلاصہ یہ کہ ١٩٩٢ کے حادثہ سے پہلے اور حادثہ کے بعد ہر مرحلہ میں میں ایک ہی بات کہتا رہا ہوں ۔ وہ یہ کہ جمہوریت کے ماحول میں جب بھی کوئی نزاعی مسئلہ پیدا ہو تو اس کو ہمیشہ پر امن دائرہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader