دیباچہ
Urdu book, p. 111
By Maulana Wahiduddin Khan
ذمہ داری کا جذبہ ابھارتی ہے۔ اس سے یہ احساس بیدار ہوتا ہے کہ پیغمبر کے بعد اب پیغمبر کے ماننے والوں کو یہ کام کرنا ہے کہ آپ کے لائے ہوئے دین کی ہر زمانہ اور ہر نسل میں اشاعت کرتے رہیں۔ وہ ختم نبوت کے بعد پیغام نبوت کا تسلسل دنیا میں جاری رکھیں۔ یہ تعبیر بتاتی ہے کہ ختم نبوت کے بعد آپ کی امت مسئولیت کے اعتبار سے مقام نبوت پر ہے۔ پہلی تعبیر اگر فخر کا احساس پیدا کرتی ہے تو دوسری تعبیر ذمہ داری کا احساس ابھارتی ہے۔ اسی طرح حدیث کی یہ تعبیر کہ "انا الماحی الذی یمحوبى الله الكفر (البخاری، کتاب المناقب) یعنی میں مٹانے والا ہوں، اللہ میرے ذریعہ سے کفر کو مٹائے گا۔ اس تعبیر سے دوبارہ ذمہ داری کا گہرا احساس پیدا ہوتا ہے۔ اس میں اہل ایمان کو یہ پیغام ملتا ہے کہ ہر دور میں جو باطل نظریہ ابھرے، ہر دور میں دین حق کے خلاف جو شکوک وشبہات پیدا کئے جائیں ان کے مقابلہ میں وہ بھر پور طور پر کھڑے ہوں اور ہر فکری اور نظریاتی محاذ پر اٹھنے والے طوفانوں کو پیچھے دھکیل دیں۔ یہ وہی فکری جہاد ہے جس کو قرآن میں جہاد کبیر کہا گیا ہے (الفرقان ۵۲) تعبیر کی اہمیت نفسیاتی اعتبار سے بے حد اہم ہے۔ مثلاً پیغمبر کے ساتھ قلبی تعلق کے بارے میں عشق رسول کی غیر منصوص تعبیر خوش عقیدگی کا مزاج پیدا کرتی ہے۔ اس کے مقابلے میں محبت رسول کی منصوص تعبیر اطاعت رسول کا جذبہ ابھارتی ہے۔ اسی طرح افضل الانبیاء کی غیر منصوص تعبیر فخر کا مزاج پیدا کرتی ہے۔ اس کے مقابلے میں قرآن وحدیث کی مذکورہ منصوص تعبیر دعوت اور عمل کا جذبہ ابھارتی ہے۔ سوال کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ آپ نے اجودھیا کی بابری مسجد کے مسئلہ کا یہ حل پیش کیا کہ بابری مسجد کو ہندوؤں کے حوالے کر دیا جائے ۔ کیا کوئی مسجد کسی کے حوالے کی جا سکتی ہے؟ اس کی وضاحت فرمائیں۔ (سید اکرام الدین ، حیدر آباد )

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader