Urdu book · سوال و جواب

دیباچہ

Urdu book, p. 120

By Maulana Wahiduddin Khan

ان روایتوں کا مطالعہ بتاتا ہے کہ نماز کے کچھ اجزاء کے بارے میں تمام صحابہ متفق رائے ہیں۔ مثلاً فجر کی دو رکعت، ظہر کی چار رکعت اور مغرب کی تین رکعت۔ اسی طرح ہر رکعت میں رکوع ایک بار اور سجدہ دو بار۔ یہ اجزاء وہ ہیں جن میں کسی بھی صحابی کا کوئی اختلاف منقول نہیں۔ مگر نماز کے کچھ اور اجزاء ہیں جن میں خود صحابہ کی روایتوں میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ مثلاً کسی روایت سے آمین بالجہر کا ثبوت ملتا ہے تو کسی روایت سے آمین بالسرا کا۔ کسی روایت میں رکوع اور سجدہ کے لئے ایک ذکر ہے تو دوسری روایت میں دوسرا ذکر، وغیرہ۔ آپ نے مذکورہ کتاب میں رسول اللہ کی نماز کا جو طریقہ پڑھا، اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ حدیث کی کتابوں میں صرف اسی طریقہ کا تذکرہ ہے جو اس کتاب میں درج ہے۔ ’’نماز نبوی‘‘ کی یہ تصویر انتخابی طور پر بنائی گئی ہے نہ کہ کلی طور پر۔ یعنی کچھ روایتوں کو لے کر کہہ دیا گیا کہ یہ نماز نبوی ہے اور اس کے برعکس دوسری روایتوں کو یا تو لیا نہیں گیا یا یہ کہہ دیا گیا کہ وہ یا تو منسوخ ہیں یا مرجوح ہیں یا غیر افضل ہیں۔ ترجیح کا یہی خود ساختہ اصول حنفی لوگ بھی استعمال کرتے ہیں اور غیر حنفی لوگ بھی۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کتب حدیث کی جن روایتوں کو منسوخ یا مرجوح یا غیر افضل قرار دیا جاتا ہے، ان کی اس نوعیت کا علم کہاں سے ہوا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ خود روایت کے متن سے ان کی یہ نوعیت ثابت نہیں ہوتی۔ یہ دعویٰ تمام تر فقہاء کے اپنے قیاس پر مبنی ہے اور عبادت کے معاملہ میں قیاس قابل اعتبار نہیں۔ جیسا کہ معلوم ہے، یہ قیاسی فقہ تبع تابعین کے دور میں پیدا ہوئی۔ اس سے پہلے صحابہ اور تابعین کے زمانہ میں نماز نبوی کی انتخابی تصویر کا طریقہ رائج ہی نہ تھا۔ صحابہ اور تابعین کے زمانہ میں بھی طریق نماز میں یہ اختلاف عملاً موجود تھے۔ مگر وہ لوگ یہ نہیں کرتے تھے کہ مختلف طریقوں میں سے کسی ایک طریقہ کو درست قرار دینے کی کوشش کریں، بلکہ ان کا کہنا یہ تھا کہ مختلف صحابہ میں سے جس صحابی کے طریقہ کی بھی تم پیروی کرو گے تم ہدایت پر ہوگے اور تمہاری نماز درست قرار پائے گی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page