دیباچہ
Urdu book, p. 121
By Maulana Wahiduddin Khan
اصل یہ ہے کہ ظاہری اعتبار سے نماز کے دو حصے ہیں ۔ ان میں سے ایک کو ارکانِ نماز اور دوسرے کو آدابِ نماز کہا جاسکتا ہے۔ ارکان سے مراد نماز کے وہ اجزاء ہیں جن میں تمام صحابہ متفق ہوں اور جن میں تمام صحابہ کی روایتیں ایک ہی تصویر پیش کرتی ہیں۔ اس کے مقابلہ میں آداب سے مراد نماز کے وہ جزئی پہلو ہیں جن میں صحابہ کی روایتوں میں فرق و اختلاف پایا جاتا ہے۔ اس صورت حال کی صحیح توجیہ یہ ہے کہ ارکانِ نماز میں توحد (یکساںیت) مطلوب ہے اور آدابِ نماز میں تنوع ۔ جیسا کہ عرض کیا گیا، لوگ یہ کرتے ہیں کہ وہ مختلف روایتوں میں سے کچھ روایتوں کو چھوڑتے ہیں اور کچھ روایتوں کو لیتے ہیں اور پھر اپنی منتخب روایتوں کی بنیاد پر ایک تصویر بنا کر کہتے ہیں کہ یہ نماز نبوی (صلوٰة النبی) ہے۔ ان لوگوں سے کہا جائے کہ جن ثابت شدہ روایتوں کو آپ نے چھوڑا ہے وہ بھی تو آخر نمازِ نبوی ہی کا حصہ ہیں۔ اسکے جواب میں وہ یہ کہیں گے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان جواز کیلئے ایسا کیا۔ مگر ’’بیانِ جواز‘‘ کا یہ نظریہ قیاسی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب نماز کا کوئی واحد معین طریقہ مطلوب تھا تو اسکی کیا ضرورت تھی کہ ’’بیانِ جواز‘‘ کے لئے ایک مختلف طریقہ کا نمونہ قائم کیا جائے ۔ وہ چیز جو ارکانِ نماز کی حیثیت رکھتی ہیں وہاں آپ نے بیانِ جواز کی خاطر کبھی کوئی فرق نہیں کیا۔ پھر بیان جواز کا اصول ارکانِ نماز میں غیر مطلوب تھا وہ آدابِ نماز میں کیوں مطلوب ہو گیا ۔ اس معاملہ کی نوعیت امام شافعی کے قول سے بہت اچھی طرح واضح ہوتی ہے۔ اگرچہ خود بھی انہوں نے انتخابی اصول کو استعمال کرتے ہوئے نمازِ نبوی کی ایک تصویر بنائی ۔ مگر اسی کے ساتھ انہوں نے یہ بھی کہا کہ : رائے صواب يحتمل الخطاء وراى غيرى خطاء يحتمل الصواب (میری رائے درست ہے احتمال خطا کے ساتھ اور میرے علاوہ کی رائے غلط ہے احتمال صحت کے ساتھ)۔ انتخابی تصویر بنانے کی ساری کوشش کے بعد بھی کیا وجہ ہے کہ دونوں فریقوں کے حق میں صرف احتمال خطا یا احتمال صواب ہی حاصل ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک فریق جب کچھ منتخب روایتوں کو لے کر اپنی تصویر مکمل کرتا ہے تو اُس کے بعد اس کو معلوم ہوتا ہے کہ میری تصویر کے علاوہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader