دیباچہ
Urdu book, p. 123
By Maulana Wahiduddin Khan
رکھتے ہوئے دوسرے طریقہ سے اس کی تلافی کی جائے۔ تلافی کا یہ طریقہ وصیت کا اصول ہے۔ یعنی جہاں براہ راست قانونی لنک کے ذریعہ وراثت نہیں پہنچ رہی ہے وہاں دادا اپنے حق وصیت کو استعمال کرتے ہوئے محجوب پوتے کو اس کا واقعی حصہ دے دے۔ چنانچہ اسلام کی پوری تاریخ میں ہمیشہ ایسا ہی ہوتا رہا ہے اور اب بھی ہو رہا ہے۔ کچھ خاندان ایسے ہو سکتے ہیں جہاں محجوب پوتے کو وراثت نہ دی گئی ہو۔ مگر اس کا سبب سرکشی ہے نہ کہ قانون میں کوئی کمی۔ جن لوگوں کے مزاج میں سرکشی ہو وہ محجوب پوتے کے علاوہ دوسرے مسلم معاملات میں بھی ایسا ہی کرتے ہیں۔ مثلاً بہنوں کو حق نہ دینا، جس کی مثالیں موجودہ مسلم معاشرہ میں کثرت سے پائی جاتی ہیں۔ حالاں کہ یہ شریعت سے انحراف کی بنا پر ہے نہ کہ شریعت کی پیروی کی بنا پر۔ سوال آپ نے الرسالہ دسمبر ۱۹۷ء میں ”فطری روش“ کے تحت لکھا ہے کہ عرب جاہلیت کا یہ واقعہ دراصل فطرت انسانی کا واقعہ ہے، اس وقت عرب کے لوگ اپنی فطرت پر قائم تھے۔ اس پر اعتراض یہ ہے کہ اگر عرب کے لوگ فطرت پر قائم ہوتے تو اُن کے دور کو دور جاہلیت کے دور سے موسوم کیوں کیا جاتا اور پیغمبر اسلام کو دین فطرت کی عظمت ان کے دلوں میں بٹھانے میں جنگوں کا سامنا کیوں کرنا پڑتا معلوم ہوا کہ وہ لوگ غیر فطری زندگی گزارتے تھے، پیغمبر اسلام کی قربانیوں سے وہ فطری زندگی پر آئے۔ (امیر حمزہ، جامعہ سراج العلوم، کرنا) جواب اسلام کے مقابلہ میں جب جاہلیت کا لفظ بولا جاتا ہے تو اُس کا مطلب وہ نہیں ہوتا جو اُردو زبان میں اس لفظ کا مستعمل مفہوم ہے بلکہ اس کا مطلب ہوتا ہے، بے خبری (ignorance)۔ اس سے مراد ظہور اسلام سے پہلے کا دور ہے جب کہ اہل عرب وحی اور نبوت سے بے خبر تھے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم جن عربوں (بنو اسماعیل) کے درمیان بھیجے گئے ان کے بارے میں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader