Urdu book · سوال و جواب

دیباچہ

Urdu book, p. 124

By Maulana Wahiduddin Khan

وہ بات خود احادیث سے ثابت ہے جس کا تذکرہ آپ نے الرسالہ میں پڑھا ۔ احادیث میں آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ کو خیار عرب میں مبعوث فرمایا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کے اندر اسلام سے پہلے اعلیٰ انسانی صفات (human qualities) موجود تھیں ۔ حدیث کی زبان میں، اسلام نے ان کے اندر فقہ (شعورِ ایمان) کا اضافہ کیا ۔ اس طرح جاہلیت کے بہترین لوگ اسلام میں بہترین لوگ بن گئے (خیار کم فی الجاھلية خيار كم فى الا سلام إذا فقهوا)۔ عرب کے یہ لوگ جو اسلام میں آنے کے بعد بہترین امت بن گئے، وہ کسی پُر اسرار قسم کی قربانی کے ذریعہ نہیں بنے ۔ بلکہ دعوتی جدوجہد کے ذریعہ بنے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تبلیغ اور قرآن کے مطالعہ نے ان کے اندر حق کا شعور پیدا کیا ۔ ان کے اندر ذ ہنی بیداری آئی۔ اس طرح انہوں نے معرفت (دریافت) کے طور پر اللہ کے دین کو پایا ۔ یہ مکمل طور پر فکری انقلاب (intellectual revolution) کے ذریعہ پیش آنے والا ایک واقعہ تھا نہ کہ کسی پُر اسرار قربانی کے ذریعہ پُر اسرار طور پر پیش آنے والا کوئی واقعہ۔ سوال آپ کی تحریروں کے ذریعہ میرے ذہن میں یہ بات آئی کہ دعوت و تبلیغ کا فریضہ کسی بھی اسلامی دور میں متروک نہیں رہا ہے اور آپ کی تحریروں سے بعض لوگوں کے اس استنباط کی بھی تردید ہوتی ہے کہ دعوتی و دینی نقطہ نظر سے امت مسلمہ پر طویل ”قرونِ مظلمہ“ کا دور گزر رہا ہے۔ میرے اس خط کا موضوع صوفیائے کرام کی تبلیغی و دعوتی کوشش ہے۔ میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ ۱۲۰۰ء کے بعد جب کہ صوفی تحریک کو عالمگیر فروغ حاصل ہوا، کیا اس دور میں بھی صوفیائے کرام نے دعوت و تبلیغ کا فریضہ انجام نہیں دیا ہے؟ اس ضمن میں میں آپ کی رائے جاننا چاہتا ہوں۔ (شکیل احمد فاروقی، مہاراشٹر) جواب یہ بات صحیح ہے کہ حضرات صوفیاء نے براہ راست طور پر دعوتی کام نہیں کیا۔ یعنی وہ ایسا نہیں کرتے تھے کہ غیر مسلموں کے پاس جا کر کہیں کہ : ايها الناس قولوا لا اله الا الله تفلحوا ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page